عالمی یوم ما حولیات پر صوبائی محکمہ ماحولیات کے زیر اہتمام بیٹ پلاسٹک پولوشن کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد

منگل جون 21:34

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) عالمی یوم ماحولیات پر کی مناسبت سے منگل کے روز یہاں صوبائی محکمہ ماحولیات کے زیر اہتمام ڈبلیو ڈبلیو ایف ، بی آر ایس پی ، پی پی اے ایف اور بلوچستان انوائر مینٹل پروٹیکشن ایجنسی کے تعاون سے ’’ بیٹ پلاسٹک پولوشن ‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی چیف سیکریٹری بلوچستان اورنگزیب حق تھے تقریب میں سابق صوبائی وزیر ماحولیات پرنس احمد علی سیکریٹری ماحولیات عبدالصبور کاکڑ ، ڈائریکٹر جنرل ماحولیات طارق زہری کے علاوہ مختلف محکموں و غیر سرکاری اداروں کے نمائندے اور مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی چیف سیکریٹری اورنگزیب حق نے کہا کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات ماحول پر مرتب ہورہے ہیں جس کے باعث عالمی درجہ حرارت میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ہمیں اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے اور عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لئے جنگلات کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہوں گے تاکہ گلوبل وارمنگ کے اثرات کو کم سے کم کیا جائے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ ہمیں نہ صرف اپنے گھروں میں درخت لگانے چاہیں بلکہ یہ سلسلہ دفاتر اور شہر کی اہم سڑکوں پر بھی شروع کیا جانا چاہیے ۔ انہوںنے کہا کہ درختوں کو لگانے کے ساتھ ساتھ ان کی مناسب دیکھ بھال اور پرورش کی ذمہ داری بھی ہمیں لینی چاہیئے چیف سیکریٹری نے کہا کہ ہمیں پانی کے استعمال میں بے حد احتیاط برتنے کی ضرورت ہے بلکہ ہمیں اس کی عادت ڈالنا ہوگی تاکہ پانی کے ضیائع کو روک کر اس میں بچت کریں تاکہ ہمارے ارد گرد دوسرے لوگوں کو بھی یہ سہولت میسر آسکے ۔

انہوںنے کہا کہ پانی کے کم استعمال کے حوالے سے ہمیں لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے سابق صوبائی وزیر ماحولیات پرنس احمد علی نے کہا کہ ہمیں اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے موثر اقدامات کرنا ہوں گے پلاسٹک کے تھیلوں کے باعث آلودگی خطرناک حد تک پھیل رہی ہے جس کا سد باب ناگزیر ہے ۔انہوںنے کہا کہ روز مرہ اشیاء کے استعمال میں پلاسٹک کی اشیاء کو کم سے کم استعمال لانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کا استعمال انتہائی تباہ کن ہے حتیٰ کہ یہ کینسر کا باعث بھی بنتا ہے پلاسٹک کے ایک تھیلے کو ختم کرنے کیلئے چار سوپچاس سال لگ جاتے ہیں ہمیں ماحولیاتی آلودگی کے خلاف شعور بیدار کرنے کے لئے ایک موثر آگاہی مہم چلانے کیساتھ ساتھ ہمیں اپنی سوچ اور رویوں میں بھی تبدیلی لانی ہوگی اور یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے ماحول کو صاف ستھرا کرکے ہی رہیں گے ۔

انہوںنے کہا کہ ایک تندرست انسان کو آکسیجن فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ درختوں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ایک منٹ میں ایک درخت پوائنٹ ایک لیٹر آکسیجن پیدا کرتا ہے جوکہ نعمت سے کم نہیں اسی لیئے ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے تقریب سے سیکریٹری ماحولیات عبدالصبور کاکڑ، ڈائریکٹر جنرل طارق زہری، ملک رشید کاکڑ ودیگر مقررین نے بھی ماحولیات کے عالمی دن کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اس سے قبل تقریب میں ماحولیات سے متعلق طلباء و طالبات نے مختلف ٹیبلو پیش کئے بعد میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء و طالبات میں اسناد تقسیم کئے گئے ۔

متعلقہ عنوان :