فلسطینی بچوں کی لیونل میسی سے اپیل رنگ لے آئی

ارجنٹائن نے اسرائیل سے دوستانہ فٹبال میچ منسوخ کردیا

بدھ جون 11:53

فلسطینی بچوں کی لیونل میسی سے اپیل رنگ لے آئی
ریو ڈی جنیرو(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 6 جون 2018 ء) فلسطین کے شدید احتجاج کے بعد ارجنٹائن کی نیشنل فٹ بال ٹیم نے ورلڈ کپ 2018ءسے قبل اسرائیل سے کھیلا جانے والے دوستانہ میچ منسوخ کردیا ہے ۔ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں اسرائیل اور ارجنٹینا کے درمیان 9 جون کو مقبوضہ بیت المقدس کے ٹیڈی اسٹیڈیم میں دوستانہ میچ ہونا تھا، جو ورلڈ کپ سے قبل ارجنٹائن کا آخری وارم اپ میچ تھا تاہم فلسطین کی جانب سے شدید احتجاج سامنے آنے کے بعد ارجنٹائن کی فٹ بال ایسوسی ایشن نے 9 جون کو ہونے والا میچ منسوخ کردیا۔

ارجنٹائن کی سپورٹس ویب سائٹ”مینیٹونو“کے مطابق قومی فٹ بال ٹیم کے کپتان لیونل میسی کی ہدایت پر مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والا میچ منسوخ کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب ارجنٹائن میں فلسطینی سفیر حسنی عبدالوحید نے دوستانہ میچ کی شدید مخالفت کی تھی، جن کا کہنا تھا کہ ارجنٹائن اور اسرائیل کے درمیان اگر میچ ہوا تو اسے اسرائیل کے 70 سالہ قیام پر جشن کے مترادف سمجھا جائے گا۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 1948 ءمیں فلسطین کی سرزمین پر قبضہ کرلیا تھا جس کے 70 سال مکمل ہوگئے ہیں ۔ارجنٹائن میں تعینات فلسطینی سفیر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں میچ کا انعقاد ہمارے لیے ناقابل قبول ہے کیوں کہ یہ مقبوضہ علاقہ ہے اور وہاں ایسی ٹیم کو کھیلتا دیکھنا قابل تکلیف ہوگا جس کے حامیوں کی فلسطین اور عرب دنیا میں بڑی تعداد ہے۔

اس سے قبل 70 فلسطینی بچوں کے ایک گروپ نے لیونل میسی کو ایک خط لکھا تھا جس میں بچوں نے میسی سے اسرائیل کے خلاف دوستانہ میچ میں شرکت نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر جبریل رجب کا بھی کہنا تھا کہ لیونل میسی امن اور پیار کی علامت ہیں، اس لیے ہم نہیں چاہیں گے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں اپنے آباﺅ اجداد کی قبروں پر کھیلے جانے والے میچ کا حصہ بنیں۔ انہوں نے عرب اور تمام مسلم ممالک میں میسی کے مداحوں سے اپیل کی تھی کہ اگر اسرائیل اور ارجنٹائن کے درمیان میچ ہوا تو میسی اور ارجنٹائن کی شرٹس اور تصاویر کو نذرآتش کردیا جائے۔