افتخار چوہدری بدسلوکی کیس،

سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا پولیس افسران کی سزا کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد کردیں‘اپیلیں خارج ہوتے ہی ملزمان کی سزائیں بحال

بدھ جون 12:15

افتخار چوہدری بدسلوکی کیس،
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری بدسلوکی کیس کا فیصلہ سنادیا اور پولیس افسران کی سزا کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد کردیں۔۔عدالت نے اپیلیں خارج کرتے ہوئے ملزمان کی سزائیں بحال کردیں۔ عدالت کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ جسٹس مشیرعالم نے فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

پولیس افسران پر سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بال کھینچنے اور بدسلوکی کا الزام تھا۔

(جاری ہے)

13مارچ 2007 کو وہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے سپریم کورٹ کی طرف جارہے تھے جب اسلام آباد کی شہری انتظامیہ اور پولیس نے انکو سرکاری کار میں بیٹھنے کا کہا۔ ان کے انکار کرنے پر ان سے بدسلوکی کی گئی۔ایس ایس پی موٹروے جمیل ہاشمی اورڈی ایس پی رخسار مہدی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔

ایس ایس پی کیپٹن (ر) ظفر کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔سابق چیف کمشنر خالد پرویز اور ڈپٹی کمشنر کی سزائیں بھی بحال کردی گئیں ہیں۔اس سے پہلے، ایس ایس پی جمیل ہاشمی اور کییپٹن ظفر کو ایک ایک ماہ کی قید کی ہوئی تھی۔ ڈی ایس پی رخسار مہدی اور اے ایس آئی محمد سراج کو بھی ایک ایک ماہ قید ہوئی تھی۔۔عدالت نے سابق آئی جی افتخار احمد کو پندرہ دن قید کی سزا سنائی تھی۔