ریاض کا شمار دُنیا کے مہنگے ترین شہروں میں ہونے لگا

سروے رپورٹ میں زیورخ مہنگا ترین جبکہ قاہرہ سستا ترین شہر قرار پایا

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ جون 12:18

ریاض کا شمار دُنیا کے مہنگے ترین شہروں میں ہونے لگا
جدہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 6 جُون 2018ء) ایک بین الاقوامی مالیاتی کمپنی UBS کی جانب سے دُنیا کے 77شہروں میں کروائے گئے سروے کے مطابق ریاض کا شمار دُنیا کے مہنگے ترین شہروں کی فہرست میں 60ویں نمبر پر ہونے لگا ہے۔ سروے کے مطابق ریاض کی آبادی 60 لاکھ ہے جو سعودی عرب کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا شہر ہے۔ اس شہر میں 35 فیصد غیر ملکی باشندے جبکہ 65 فیصد سعودی شہری بستے ہیں۔

اس دلچسپ سروے کے حقائق کے مطابق ریاض کے شہریوں کو ایک بڑا میکڈونلڈ برگر خریدنے کے لیے 24.5 منٹ کام کرنا پڑتا ہے‘ جبکہ آئی فون 10 خریدنے کے لیے130.2 گھنٹے محنت کرنی پڑتی ہے۔ اسی طرح بال ترشوانے کے لیے مردوں کو 52.6 منٹ کی مزدوری جبکہ خواتین کو لیڈیز بیوٹی پارلر میں زُلفیں ترشوانے کے لیے 161 منٹ پر محیط ملازمت کا دورانیہ درکار ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

مہنگائی کے لحاظ سے ریاض 60 ویں‘ کمائی کے لحاظ سے 39 ویں جبکہ قوتِ خرید کے اعتبار سے 24 ویں نمبر پر ہے۔

اس سروے کے لیے 128اشیاء اور خدمات کے علاوہ 15 مخصوص پیشوں سے حاصل ہونے والی کمائی کو بُنیاد بنایا گیا۔ سروے رپورٹ کے مطابق زیورخ رہائش کے لیے مہنگا ترین شہر جبکہ قاہرہ سستا ترین شہر قرار پایا۔ جنیوا کمائی کے لحاظ سے سرفہرست رہا‘ جبکہ نئی دِلّی‘ ممبئی اور قاہرہ کا شمار سب سے کم آمدنی والے شہروں میں کیا گیا ہے۔ قوتِ خرید کے اعتبار سے لاس اینجلس کے شہری سرفہرست رہے جبکہ لاگوس کا درجہ آخری رہا۔

ہانگ کانگ کے رہائشیوں کو ایک بڑا میکڈونلڈ برگر خریدنے کے لیے صرف 12منٹ جبکہ آئی فون 10 خریدنے کے لیے 75 گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے جبکہ نیروبی والوں کو اسی ماڈل کے آئی فون کے لیے 577گھنٹوں کی مشقت اُٹھانا پڑتی ہے۔ اس فہرست میں شہروں میں سالانہ تعطیلات کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کے مطابق ریاض‘ ماسکو‘ سینٹ پیٹرزبرگ اور بارسلونا کا شمار زیادہ تعطیلات والے چار اولین شہروں میں ہوتا ہے۔ ریاض کے ملازمین سالانہ 37 چھُٹیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ نئی دِلّی کے لوگ سالانہ 21 چھُٹیاں جبکہ لاس اینجلس‘ بیجنگ‘ ہنوئی اور لاگوس کا شمار کم چھُٹیاں کرنے والے لوگوں میں ہوتا ہے۔ اس سروے کے لیے پرائس انڈیکس لیول‘ ورکنگ ہاورز اور قوتِ خرید کو بُنیاد بنایا گیا ہے۔