یورپی وزرائے داخلہ کاسیاسی پناہ کے قوانین میں اصلاحات کے نئے مسودے پراجلاس

امید ہے شرکاء بلغاریہ کے یورپی اسائلم پالیسی میں اصلاحات پر یونین کے سربراہی اجلاس سے قبل متفق ہو جائیں گے

بدھ جون 12:40

برسلز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ بلاک میں سیاسی پناہ قوانین میں اصلاحات کے ایک نئے مسودے پر گفتگو کر رہے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ مشرقی اور مغربی یورپی ممالک اس مسودے پر اتفاق کر لیں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یورپی یونین میں سیاسی پناہ کے نظام میں اصلاحات کا معاملہ گزشتہ دو برس سے رکن ممالک کے مابین اختلاف کا سبب بنا ہوا ہے۔

مشرقی اور مغربی یورپی ممالک کے مابین ڈیڈلاک تو پہلے ہی سے جاری تھا تاہم اب اٹلی میں عوامیت پسندوں کی حکومت آنے کے بعد یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہو چکا ہے۔اس ضمن میں بلغاریہ کے تیار کردہ ایک مفاہمتی مسودے پر گفتگو کی جائے گی اور امید کی جا رہی ہے کہ رکن ممالک یورپی اسائلم پالیسی میں اصلاحات پر یونین کے سربراہی اجلاس سے قبل متفق ہو پائیں گے۔

(جاری ہے)

یورپی یونین کا سربراہی اجلاس رواں ماہ کی اٹھائی اور انتیس تاریخ کو برسلز میں منعقد ہو رہا ہے۔۔اٹلی کی نئی عوامیت پسند حکومت مجوزہ ترامیم کو پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔ بلغاریہ کے تیار کردہ اس مسودے میں فرنٹ لائن ممالک پر مہاجرین کا بوجھ کم کرنے کے علاوہ مہاجرین کی یورپی یونین میں نقل و حرکت روکنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ مشرقی یورپی ممالک مہاجرین کی نقل و حرکت کے علاوہ کوتہ سسٹم کے تحت ان کی منتقلی کی مخالفت کر رہے ہیں۔

بوڈاپسٹ حکومت اب تک خاص طور پر مسلمان مہاجرین کو اپنے ہاں قبول نہ کرنے کے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔ نئی تجاویز میں کوٹہ سسٹم کے تحت مہاجرین کی اٹلی اور یونان سے دیگر یورپی ممالک کی جانب منتقلی کا ذکر تو موجود ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے ’آخری حل‘ کے طور پر استعمال کیا جائے۔بلغاریہ کے تیار کردہ اس مسودے میں پہلے ہی سے مہاجرین کے بحران کا سامنا کرنے والے اٹلی اور یونان جیسے ممالک پر مہاجرین کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں بڑھ جائیں گی۔ یہ نیا قانونی مسودہ یونین کے رکن ممالک کے مابین مفاہمت کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

متعلقہ عنوان :