جرمنی میں امریکی سفیر پر داخلی سیاست میں مداخلت کا الزام،ملک بدری کا مطالبہ

امریکی سفیررچرڈ گرینل کی جرمن محکمہ خارجہ طلبی، ان کے کئی حالیہ لیکن متنازعہ بیانات کی وضاحت طلب کی گئی

بدھ جون 12:40

برلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) جرمنی میں کئی اہم رہنماؤں کے یہ مطالبات شدید تر ہو گئے ہیں کہ چانسلر میرکل کی حکومت کو برلن میں متعینہ متنازعہ امریکی سفیر رچرڈ گرینل کو ملک بدر کر دینا چاہیے۔ گرینل پر جرمنی اور یورپ کی داخلی سیاست میں مداخلت کا الزام ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق جرمنی میں تعینات امریکی سفیر رچرڈ گرینل سیاسی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور معتمد ہیں۔

لیکن ان پر الزام ہے کہ وہ سیاسی اور سفارتی حوالے سے اپنے عہدے کی غیر جانبدارانہ نوعیت کے تقاضوں کے برعکس کئی بار جرمنی اور یورپ کی داخلی سیاست میں مداخلت کے مرتکب ہوئے ہیں۔امریکی سفیر گرینل کی جرمن اور بالواسطہ طور پر یورپی داخلی سیاست میں مبینہ مداخلت جرمن اور یورپی سیاستدانوں کو اس لیے بھی ناگوار گزری ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری ڈیل اور پھر امریکا اور یورپی یونین کے مابین تجارتی محصولات کے تنازعے سمیت کئی شعبوں میں پائے جانے والے اختلافات کے باعث یورپی امریکی تعلقات پہلے ہی سے کھچاؤ کا شکار ہیں۔

(جاری ہے)

یہی وجہ ہے کہ اب جرمنی میں خاص کر یہ مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں کہ برلن حکومت کو رچرڈ گرینل کو ملک بدر کر دینا چاہیے۔ گرینل نے برلن میں امریکی سفیر کے طور پر اپنیفرائض ابھی آٹھ مئی کو سنبھالے تھے۔ پھر اسی روز انہوں نے یہ غیر متوقع کام بھی کر دیا کہ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ جرمن کمپنیوں کو ایران کے ساتھ اپنا ہر قسم کا کاروبار اس لیے بند کر دینا چاہیے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے امریکا کے اخراج کا اعلان کر چکے ہیں۔

دریں اثناء وفاقی جرمن وزارت خارجہ رچرڈ گرینل سے ان کے کئی حالیہ لیکن متنازعہ بیانات کی وضاحت بھی چاہتی ہے۔ اس کے لیے برلن کی وزارت خارجہ میں ریاستی امور کے اسٹیٹ سیکرٹری میشائیلیز کے ساتھ گرینل کی ایک ملاقات ہوئی ہے۔