امریکی فضائیہ کے بی 52 بمبار طیاروں کی جنوبی بحیرہ چین میں متنازعہ جزائر کے قریب پروازیں، چین کا سخت رد عمل

بدھ جون 13:15

واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) امریکی فضائیہ کے بی 52 بمبار طیاروں نے جنوبی بحیرہ چین میں متنازعہ جزائر کے قریب پروازیں کی ہیں ۔یو ایس پیسیفک ایئر فورسز کی طرف سے جاری بیان کے مطابق جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بی 52 طیاروں نے متنازعہ جزائر سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر پرواز کی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل کرس لوگن کے مطابق بحرالکاہل کے جزیرہ گوام میں تعینات بی 52 طیاروں کی پرواز تربیتی نوعیت کی تھی۔

ان طیاروں نے پہلے گوام سے ڈیگو گارشیا اور پھر ڈیگو گارشیا سے جنوبی بحیرہ چین تک پرواز کی۔ انہوں نے کہا کہ طیاروں کی اس پرواز کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ امریکی افواج کی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ قبل ازیں امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے متنازعہ جزائر پر فوجی سرگرمیوں کو چین کی طرف سے ہمسایہ ممالک کو دھمکانے کے مترادف قرار دیا تھا جس کی چین نے سختی سے تردید کی تھی۔

چین کے علاوہ ان جزائر پر ملکیت کا دعویٰ کرنے والے دیگر ممالک میں ملائشیا، ویتنام، فلپائن اور تائیوان شامل ہیں۔درایں اثنا چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہوا چن ینگ نے امریک افواج کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے چور بھی کہے چور چور کا مصداق قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا کیوں آئے روز اس علاقے میں فوجی طیاروں کی پروازیں کر رہا ہے اور اس اقدام سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔

متعلقہ عنوان :