دریائے فرات کے کنارے داعش کا خونریز حملہ،

45شامی فوجی ہلاک ْجھڑپوں میں شام اور دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے 26 داعشی شدت پسندبھی مارے گئے،مبصر تنظیم

بدھ جون 13:36

بیروت(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) شام میں انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق دریائے فرات کے مغربی کنارے داعش کے شدت پسندوں نے اسد رجیم کے اہلکاروں پر ہلاکت خیز حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 45 فوجی ہلاک ہو گئے ۔شام میں انسانی حقوق کی صورتحال مانیٹر کرنے والی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے عرب ٹی وی کو بتایاکہ داعش کے جنگجوؤں نے دریائے فرات کے مغربی کنارے سرکاری فوج کے زیر کنٹرول علاقوں میں گھس کر حملہ کیا جس میں کم سے کم 45 شامی فوجی ہلاک ہو گئے۔

اس علاقے میں جاری جھڑپوں میں شامی فوج کا یہ سب سے بڑا جانی نقصان ہے جب کہ دوسری طرف شام اور دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے 26 داعشی شدت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔رامی عبدالرحمان کے مطابق دریائے فرات کے مغربی کنارے پر داعش کے جنگجوؤں سے لڑنے والے اسدی فوجیوں کے ساتھ ایران،، عراق،، لبنانی حزب اللہ اور افغانستان کی شیعہ ملیشیاؤں کے عناصر بھی شامل ہیں۔

(جاری ہے)

انسانی حقوق کے مندوب کا کہناتھا کہ اس علاقے میں روسی فوج کی طرف سے اپنے حلیف بشارالاسد کی وفادار فورسز کو فضائی معاونت یا تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔خیال رہے کہ دریائے فرات کے مغربی کنارے کے چار اہم علاقے جن پر شامی فوج کا کنٹرول ہے میں داعش اور سرکاری فوج کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری رہی ہے۔ ان میں الرمادی، الجلاء ، دیر الزور میں بوکمال شہر شامل ہیں۔داعشی جنگجوؤں کی حالیہ عرصے کے دوران تاریخی شہر تدمر اور البوکمال میں غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں اور جنگجوؤں نے سرکاری فوج کو حملوں میں غیر معمولی جانی اور مالی نقصان سے بھی دوچار کیا ہے۔