سب ختم! شریف خاندان کے جرائم ثابت ہوگئے

ایون فیلڈ ریفرنس میں شریف فیملی ذرائع آمدن ثابت نہیں کرسکی ،ْپراسیکیوٹر نیب نواز شریف گلف اسٹیل ملز کے مالک ہیں جب کہ قطری خط بھی غلط ثابت ہوگیا ،ْ مریم نواز نے اصل حقائق چھپائے ،ْدلائل کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے بطور گواہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کئے ،ْملزمان نے تفتیشی ایجنسی کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی ،ْ سر دار مظفر

بدھ جون 14:14

سب ختم! شریف خاندان کے جرائم ثابت ہوگئے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) احتساب عدالت میں زیرسماعت ایون فیلڈ ریفرنس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ شریف فیملی ذرائع آمدن ثابت نہیں کرسکے ،ْنواز شریف گلف اسٹیل ملز کے مالک ہیں جب کہ قطری خط بھی غلط ثابت ہوگیا۔بدھ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریفرنس کی سماعت کی ۔

اس موقع پر ریفرنس میں نامزد ملزم نواز شریف کمرہ عدالت میں کچھ دیر رہنے کے بعدچلے گئے ۔ریفرنس میں نامزد دیگر ملزمان مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے ایک دن کیلئے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔وکیل ظافر خان نے عدالت کو بتایا کہ کیپٹن (ر) صفدر انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی فارم حاصل کرنے کے سلسلے میں مانسہرہ میں موجود ہیں اس لیے حاضری سے استثنیٰ دیا جائے جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے مسلسل دوسرے روز ایون فیلڈ ریفرنس میں حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف،، مریم، حسن اور حسین نواز ذرائع آمدن ثابت نہیں کرسکے ،ْ مریم نواز نے اصل حقائق چھپائے۔سردار مظفر عباسی نے کہا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے بطور گواہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کئے جب کہ ملزمان نے تفتیشی ایجنسی کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی ۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں حسین نواز کا بیان پڑھ کر سنایا اور کہا کہ حسین نواز 1992 میں لندن پڑھائی کیلئے گئے اور انہوں نے خود کہا کہ وہ ایک سال ہاسٹل میں رہے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ 1993 میں لندن فلیٹس میں منتقل ہوئے اور پھر یہیں مقیم رہے جب کہ مریم نواز اس پراپرٹی کی بینیفشل آنر ہیں۔سردار مظفر عباسی نے کہا کہ حسین نواز لندن فلیٹس کے گراؤنڈ رینٹ اور یوٹیلیٹی بلز بھی ادا کرتے تھے ،ْ انہوں نے کہا کہ وہ 1994 میں لندن فلیٹ میں رہنا شروع کیا۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ نواز شریف جانتے ہیں کہ حسین نواز 90 کی دہائی کے آغاز سے لندن فلیٹس میں رہ رہے ہیں۔نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ گلف اسٹیل ملز کے اصل مالک میاں محمد نواز شریف تھے جب کہ قطری شہزادے کا خط بھی غلط ثابت ہوگیا۔یاد رہے کہ 5 جون کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے 28 جولائی کے فیصلے میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا جبکہ ریفرنسز دائر کرنے کے لیے بھی ڈیڈ لائن دی گئی۔

سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں 18 گواہوں کے بیانات قلمبند کرائے گئے اور کسی گواہ کا نام استغاثہ نے واپس نہیں لیا ،ْ ملزمان دفاع پیش کرنے میں ناکام رہے اور وہ خود بھی اپنے گواہ کے طور پر پیش نہیں ہوئے۔نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ بار ثبوت ملزمان پر ہے اور وہ بے گناہی ثابت کرنے میں ناکام رہے۔