انتخابات سے پہلے ہی دھاندلی کا آغازہوچکا ہے۔نوازشریف

ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت: شریف خاندان کیخلاف نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر کے حتمی دلائل جاری

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ جون 13:52

انتخابات سے پہلے ہی دھاندلی کا آغازہوچکا ہے۔نوازشریف
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔06 جون۔2018ء) سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ انتخابات سے پہلے ہی دھاندلی کا آغازہوچکا ہے۔احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ ملک میں قبل ازانتخابات دھاندلی کا آغازہوچکا ہے، آغازاس دن ہوا جب مجھے مسلم لیگ کی صدارت سے ہٹایا گیا، مجھے زندگی بھر کے لئے نااہل کیا گیا، سینیٹ انتخابات میں ہمارے امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ سے محروم کر دیا گیا، کیا کوئی ایسی مثال موجود ہے کہ پارٹی ٹکٹ سے محروم کیا گیا ہو، ہر بات کاسوموٹو نوٹس لیا جاتا ہے لیکن جب (ن) لیگ کے لوگوں کو دوسری جماعتوں میں شامل کیا جاتا ہے کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔

صحافی کی جانب سے پوچھا گیا کہ سپریم کورٹ نے آپ کو بلایا ہے کیا کہیں گے جس پرنوازشریف نے کہا کہ ظفر اللہ آ رہے ہیں ان سے مشاورت ہوگی۔

(جاری ہے)

ریحام خان سے متعلق انہوں نے کہا کہ عمران خان بہترجانتے ہیں، میں بھی اخباروں میں ہی ریحام خان کی کتاب سے متعلق پڑھ رہا ہوں جب کہ مجھے نہیں معلوم یہ کیا معاملہ ہے۔صحافیوں پر تشدد اور اغوا سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس ملک میں کس طرح سے کچھ لوگ آپریٹ کر رہے ہیں، تبدیلی کوکوئی روک نہیں سکتا اور تبدیلی ہو کررہے گی جو ملک کے لیے ناگزیرہے۔

دوسری جانب احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر کے حتمی دلائل جاری ہیں۔بدھ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیرشریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کررہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف احتساب عدالت میں پیشی کے بعد روانہ ہوگئے۔۔عدالت میں سماعت کے دوران نیب ریفرنس میں نامزد مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کی جانب سے آج کیلئے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفرعباسی نے آج دوسرے روز ایون فیلڈ ریفرنس میں حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف،، مریم نواز ، حسن اورحسین نوازذرائع آمدن ثابت نہیں کرسکے جبکہ مریم نواز نے اصل حقائق چھپائے۔انہوں نے کہا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے بطور گواہ ٹرسٹ ڈیڈ پردستخط کئے جبکہ ملزمان نے تفتیشی ایجنسی کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ فلیٹس1993 سے ان کی ملکیت ہیں یہ وہاں رہ رہے ہیں، مریم نوازبینیفشل آنرہیں، گراو¿نڈ رینٹ مالک دیتا ہے اوریہ گراو¿نڈ رینٹ دیتے رہے۔

سردار مظفر نے کہا کہ یہ باتیں ان کو1993 سے ملکیت سے جوڑتی ہیں جبکہ نوازشریف بھی جانتے ہیں 90 کی دہائی کے آغازسے وہاں ہیں، قطری شہزادے کاخط غلط ثابت ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ حسین نوازفلیٹس کے گراو¿نڈرینٹ اوربلزادا کرتے تھے، حسین نوازنے کہا 1994 میں لندن منتقل ہوئے اور فلیٹ میں رہنا شروع کیا۔ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ گلف اسٹیل مل کے اصل مالک میاں محمد نوازشریف تھے جبکہ 2006 میں بیریئر شیئرز سروسزکمپنی کے حوالے کئے گئے۔

سردار مظفر نے کہا کہ یہ ثبوت ہے بیریئرشیئرز پہلے بھی ملزمان کی تحویل میں تھے، نیلسن ، نیسکول کی ملکیت اورشیئرزتحویل میں ہونے کا ثبوت ہے، بیریئرشیئرزبراہ راست قطری کی طرف سے تحویل میں نہیں گئے۔انہوں نے کہا کہ ملزمان نے تسلیم کیا 1993 سے گراﺅنڈ رینٹ ادا کررہے تھے، گراﺅنڈ رینٹ اوربطور کرایہ داررینٹ کی ادائیگی میں فرق ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روزعدالت میں سماعت کے آغاز پر نوازشریف کے معاون وکیل سعد ہاشمی نے نیب ریفرنسز میں حتمی دلائل ایک ہی بار سنے جانے سے متعلق متفرق درخواست دائر کی تھی۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ ایون فیلڈ ریفرنس سمیت دیگر 2 ریفرنسز میں واجد ضیاءاور تفتیشی افسر کے بیانات مکمل ہونے تک حتمی دلائل موخر کیے جائیں اور تمام ریفرنسز میں ایک ساتھ حتمی دلائل سنے جائیں۔احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی نیب ریفرنسزمیں حتمی دلائل ایک ہی بارسننے کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگرآپ چاہے تو اس کارروائی کو چیلنج کرسکتے ہیں۔