پنجاب میں نگراں وزیر اعلی کے معاملے پر ن لیگ اور تحریک انصاف میں ڈیڈ لاک برقرار

پارلیمانی اجلاس بے نتیجہ ختم، کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہو سکا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ جون 13:56

پنجاب میں نگراں وزیر اعلی کے معاملے پر ن لیگ اور تحریک انصاف میں ڈیڈ ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔06جون 2018ء) پنجاب میں نگراں وزیر اعلی کے معاملے پر ن لیگ اور تحریک انصاف میں تا حال ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ پارلیمانی اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا ، کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہو سکا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نگراں وزیر اعلی پنجاب کے معاملے می بوکھلا گئی ہے۔۔تحریک انصاف کی جانب سے پہلے ناصر کھوسہ کا نام سامنے آیا تھا تا ہم بعد میں ن لیگ نے ناسر کھوسہ کا نام واپس لے لیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف اور ن لیگ کے درمیان نگراں وزیر اعلی پنجاب کے نام پر ڈیڈ لاک تاحال بر قرار ہے۔۔ن لیگ اور پی ٹی آئی کا ہونے والا پارلیمانی اجلاس بھی بے نتیجہ ختم ہو گیا۔پارلیمانی اجالس میں پی ٹی آئی کیطرف سےمحمودالرشید،سبطین خان،شعیب صدیقی شامل تھے۔

(جاری ہے)

جب کہ مسلم لیگ ن کےراناثناءاللہ،خواجہ عمران نذیر،ملک محمداحمدخان شامل ہیں۔

لیکن تحریک انصاف اور ن لیگ کے درمیان کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہو سکا۔جس کے بعد پنجاب میں نگران وزیر اعلی کے نام کا معاملہ اب الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس جائے گا۔یاد رے کہ پی ٹی آئی نے نگراں وزیر اعلیٰ کیلیےحسن عسکری،ایازامیر کے نام دیے تھے۔محمود الرشید کا کہنا ہے کہ حکومتی وفد کے غیر لچکداررویے کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔

ہم نے حسن عسکری کا نام دیا ہے اور حسن عسکری پی ٹی آئی پر بھی تنقیدکرتے ہیں۔حسن عسکری کے بارے میں تفصیل سے بتایا ہے کہ وہ غیر جانبدار ہیں۔محمود الرشید کا مزید کہنا تھا کہ نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کا فیصلہ اب الیکشن کمیشن کرے گا۔ یاد رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے بڑا یوٹرن لیتے ہوئے نگران وزیرِاعلیٰ پنجاب کیلئے ناصر خان کھوسہ کا نام واپس لے لیا تھا۔

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید کا اس فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم غلط فہمی کا شکار ہو گئے تھے، اس لیے جلد بازی میں نام دے بیٹھے، پارٹی میں مشاورت کے بعد نیا نام دیں گے۔ میاں محمود الرشید نے موقف اپنایا کہ نام مجھے پارٹی چیئرمین کی طرف سے دیئے گئے تھے۔ طارق کھوسہ اور ناصر کھوسہ کے ناموں کی وجہ سے کنفوژن ہوئی