چیئرمین کمیٹی سینیٹر شمیم آفریدی کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس

بدھ جون 14:27

چیئرمین کمیٹی سینیٹر شمیم آفریدی کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان کا 90 فیصد پانی صرف زراعت میں استعمال ہوتا ہے، اگر 10فیصد پانی نکال کرگھریلو صارفین کو فراہم کر دیا جائے تو پانی کا مسئلہ با لکل ختم ہو سکتا ہے،،پاکستان میں اس وقت145ملین ایکڑ فٹ پانی موجود ہے جبکہ جنوبی ایشیا میں یہ شرح1577ملین ایکڑفٹ ہے‘چیئرمین واپڈا نے بتایا کہ وژن2050کے تحت 2050تک واپڈا پاکستان میں کئی قلیل مدتی اور طویل مدتی منصوبوں اور ڈیمز پر کام کر ہا ہے جس پر5ہزار بلین روپے لاگت آئے گی، نیسپاک پاکستان کا بہترین ادارہ تھاجس میں 921نا اہل لوگوں کی سیاسی بھرتیاں کر کے ادارے کو تباہ کر دیا گیا ‘کمیٹی چیئرمینسینیٹر شمیم آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی یہ بدقسمتی ہے کہ بھاشا ڈیم بنے گا نہیں اور کالا باغ ڈیم بننے نہیں دیا جائے گا،سارے پاکستان کی نظریں گوادر پر جمی ہوئی ہیں لیکن وہاں کی صورتحال یہ ہے کہ گوادر میں پانی کا ایک ٹینک45ہزار روپے میں فروخت ہوتا ہے، اگر فاٹا کا مسئلہ3روز میں حل کیا جا سکتا ہے تو پھر بلوچستان میں پانی کا مسئلہ حل کرنے میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں۔

(جاری ہے)

بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس سینیٹر شمیم آفریدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ چیئرمین سینیٹر شمیم آفریدی نے کہا کہ آج تک بلوچستان کو نظر اندار کیا جاتا رہا ہے۔ سی پیک پاکستان میں آنے کے بعد سے سارے پاکستان کی نظریں گوادر پر جمی ہوئی ہیں لیکن وہاں کی صورتحال یہ ہے کہ گوادر میں پانی کا ایک ٹینک45ہزار روپے میں فروخت ہوتا ہے۔

بلوچستام حکومت کا ذیادہ بجٹ تو پانی خریدنے میں ہی لگ جاتا ہوگا۔ اگر فاٹا کا مسئلہ3روز میں حل کیا جا سکتا ہے تو پھر بلوچستان میں پانی کا مسئلہ حل کرنے میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں۔ چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل(ر)مزمل حسین نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ واپڈا نے بلوچستان میں کئی منصوبے شروع کر رکھے ہیں لیکن سیاسی اختلافات کام میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

ہم نے نورنگ ڈیم پر کام شروع کیا تو بلوچستان حکومت نے وہاں کام کرنے کیلئے ہمیں این او سی ہی جاری نہیں کیا۔ اس کے علاوہ کچھی کینال منصوبے کا فیز 1ہم نی11ماہ میں مکمل کر لیا جس سے پانی ڈیرہ بگٹی تک پہنچا لیکن حکومت بلوچستان نے نہیں فیز2اور3پر کام کرنے سے روک دیا تو پھر واپڈا کیا کرے۔۔دنیا بھر میں صرف3فیصد پانی پینے کے قابل ہے جبکہ97فیصد پانی کھارا ہے۔

پاکستان میں اس وقت145ملین ایکڑ فٹ پانی موجود ہے جبکہ جنوبی ایشیا میں یہ شرح1577ملین ایکڑ فٹ ہیں۔ آنے والے 5سالوں میں اگر کام نہ کیا گیا تو ملک بھر میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوجائے گی۔ پاکستان میں پانی اور بجلی کا انفراسٹرکچر نہایت پرانا اور فرسودہ ہے جس کے باعث بہت سا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ ہماری90فیصد پانی صرف زراعت میں استعمال ہوتا ہے جبکہ صرف10فیصد کمرشل اور گھریلو صارفین کو فراہم کیا جاتا ہے۔

اگر زراعت سے 10فیصد پانی نکال کرگھریلو صارفین کو فراہم کر دیا جائے تو پاکستان میں پانی کا مسئلہ با لکل ختم ہو سکتا ہے۔ 1958سی1978 تک پاکستان میں ڈیم بنائے گئے لیکن اس کے بعد ڈیم بنانے کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے۔ اس وقت پاکستان میں چھوٹے اور بڑے کل ملا کر155ڈیم ہیں جبکہ بھارت میں اس وقت5,102ڈیم ہیں اور نئے بھی بنائے جا رہے ہیں۔چترال میں گولن کول منصوبہ شروع کیا گیا جس کا فیز1مکمل کر لیا گیا ہے جس سی36میگا واٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے جبکہ چترال کی ضرورت اس وقت20میگا واٹ ہے لیکن اپ گریڈیشن نہ ہونے کی وجہ سے جو علاقہ 36 میگا واٹ بجلی پیدا کر رہا ہے اس کو صرف7میگا واٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

گولن کول منصوبہ مکمل ہونے سے اس کی پیداوار 108میگا واٹ تک ہوجائے گی۔ نیسپاک پاکستان کا ایک وقت میں بہترین ادارہ تھا جو واپڈا کو کنسلٹنٹ فراہم کرتا تھا اور بہت سے منصوبوں میں معاونت بھی فراہم کرتا تھا لیکن 921نا اہل لوگوں کی سیاسی بھرتیاں کر کے نیسپاک کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ وژن2050کے تحت 2050تک واپڈا پاکستان میں کئی قلیل مدتی اور طویل مدتی منصوبوں اور ڈیمز پر کام کر ہا ہے جس پر5ہزار بلین روپے لاگت آئے گی۔

کالا باغ ڈیم پر اگر سیاسی اتفاق رائے ہوجاتا ہے تو تکنیکی طور پر یہ منصوبہ فائدہ مند ہوگا، اس بات کا سارا اختیار سیاسی جماعتوں کو ہے وہ جو بھی فیصلہ کریں۔ کالا باغ ڈیم پر سندھ کے تحفظات حقیقی ہیں اس لیے اگر کالا باغ ڈیم کا سارا انتظام سندھ حکومت کو دیدے تو ممکن ہے سیاسی طور پر اتفاق رائے پیدا ہو جائے۔ اس پر چئیرمین سینیٹر شمیم آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی یہ بدقسمتی ہے کہ بھاشا ڈیم بنے گا نہیں اور کالا باغ ڈیم بننے نہیں دیا جائے گا۔

چئیرمین واپڈا نے کہا کہ پاکستان میں نئے ڈیم بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انڈس واٹر کمیشن بھی اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے جس بنا پر بھارت پانی پر اپنا قبضہ جما رہا ہے۔ پاکستان میں اس وقت 25ملین ایکڑ فٹ پانی سالانہ ضائع ہو رہا ہے جس کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے جبکہ پاکستان کی پانی جمع کی صلاحیت15ملین ایکڑ فٹ ہی