چین روس کا قابل اعتماد ساتھی ،حلیف اور دوست ہے،ولادیمیر پیوٹن

بدھ جون 14:27

کریملن،روس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے چین کو قابل اعتماد ساتھی حلیف اور دوست قرار دیا ہے ،انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ہے ،انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اچھی ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون معاہدے کے مرہون منت ہیں ۔اپنی نئی صدارتی مدت کے دوران کسی غیر ملکی میڈیا ادارے کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اسی طرح دونوں ممالک اپنے ملکوں کو ترقی اور اپنے عوام سے سلوک کرنا چاہتے ہیں،جس کی بدولت دونوں ممالک پہلے سے زیادہ قریب آگئے ہیں ۔

چین کے دورے سے اہم قبل چائنہ میڈیا گروپ کے صدر شن ہائی شیائونگ کے ساتھ اپنے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے مختلف موضوعات اظہار خیال کیا جن میں چین روس شراکت داری ،شنگھائی تعاون تنظیم اور امسال روس میں ہونے والے عالمی کمپ کے موضوعات شامل ہیں ۔

(جاری ہے)

روس کے صدر پہلی مرتبہ خاص طور پر کریملن میں کسی چینی میڈیا ادارے کے ساتھ بیٹھے ہیں ۔انہوں نے کہا چین کے صدر شی جن پھنگ کی طرف سے چین کی کمیونسٹ پارٹی کی 19ویں قومی کانگریس میں کی جانی والی تقریب کی سب سے اہم بات کیا ہے چینی صدر نے کس بارے میں بات کی ہے انہوں نے عوام کامعیار زندگی بہتر بنانے کی بات کی ہے ،اس مقصد کے حصول کے کئی مختلف طریقے ہیں لیکن مقصد ایک ہی ہے جہاں تک روس کا تعلق ہے اپنے شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے علاوہ ہمارا اور کوئی مقصد نہیں ہے ،اس کی بنیاد پر ہم روس چین تعلقات کی تعمیر ،مقاصد کے حصول ،قومی سلامتی کی ضمانت اور نئی معیشت خاص طور پر جدید دور ڈیجیٹل معیشت ،جیم ٹیکنالوجی ، جدید ہم آہنگ معاشرے ملک اور اس کی معیشت کی گورننس کے حوالے سے خاص طور پر نئی معیشت کی تعمیر کی کوششوں کو مستحکم بنانے پر بھی غور کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی شمولیت سے شنگھائی تعاون تنظیم زیادہ عالمی تنظیم بن گئی ہے ،ایس سی او کا مقصد محاذ آرائی پیدا کرنا نہیں بلکہ قوت کو مجتمئع کرنا ہے ۔ہم کسی دوسرے ممالک سے یقینا محاذ آرائی نہیں کرنا چاہتے بلکہ ایس سے او کے رکن ممالک اور غیر رکن ممالک کے درمیان جامع اور کثیر الجہتی تعاون کی ضمانت کے لیے ضروری حالات فراہم کرنا چاہتے ہیں ۔ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ یہ ممالک کہاں اورکس خطے میں ہیں ان ممالک کی قوت کو مجتمئع کرنے سے بلاشبہ خود ہماری ترقی میں مدد ملے گی اور عالمی صورتحال پر اثر پڑے گا،مجھے امید ہے یہ اثروسوخ مثبت ہوگا۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے چینی صدر کے ساتھ اپنی زاتی دوستی کا بھی ذکر کیا۔