لاہور ہائیکورٹ میں نگران وزیر اعظم کے خلاف درخواست دائر

نگران وزیراعظم ناصر الملک اپنے نجی دورہ سوات میں آنے والے اخراجات قومی خزانے میں جمع کروائیں، درخواست میں استدعا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ جون 14:07

لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔06 جون 2018ء) لاہور ہائیکورٹ میں مقامی وکیل جاوید اقبال جعفری نے نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کے خلاف درخواست دائر کی ہے ۔دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نگران وزیراعظم نے عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد اپنے آبائی علاقے سوات کا دورہ کیا جس پر سرکاری خزانے سے بے پناہ اخراجات کیے گئے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دورہ سوات میں نگران وزیر اعظم کو پروٹوکول دیا گیا،اور نگران وزیر اعظم کی آمدورفت اور سیکیورٹی پر جو اخراجات آئے وہ سر کاری خزانےسے لیے گئے ہیں۔

جب کہ یہ نگران حکومت کا مینڈیٹ نہیں ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وہ اپنے نجی دورہ سوات میں آنے والے اخراجات قومی خزانے میں جمع کروائیں۔۔لاہور ہائیکورٹ کےرجسٹرار آفس نے پہلے اس درخواست پر اعتراض لگایا تھا کہ یہ درخواست ہاتھ سے تحریر شدہ ہے اسے کمپیوٹرائز نہیں کیا گیا تاہم درخواست گزار نے اس پر اعتراض دور کیے بغیر دوبارہ درخواست جمع کرادی جس پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مامون رشید نے درخواست پر سماعت کی اور اعتراض دور کرتے ہوئے اسے سماعت کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کی۔

(جاری ہے)

یاد رہے ملک میں نگران سیٹ اپ آنے پر عوام کی توقع تھی کہ شاید اس شاہانہ پروٹوکول کے کلچر کو ختم کیا جائے گا لیکن نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے تو پروٹوکول میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت تمام سیاستدانوں کو پچھاڑ دیا۔آبائی شہر سوات پہنچنے پر نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملککے ہمراہ ڈیڑھ درجن سے زائد گاڑیوں کا قافلہ تھا۔

یہی نہیں نگران وزیر اعظم خود ہیلی کاپٹر میں سوار ہو کر آبائی شہر آئے۔ ان کا یہ پروٹوکول دیکھ کر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صرف دو ماہ کے لیے عہدہ سنبھالنے والے نگران وزیراعظم کوئی اچھی مثال قائم نہیں کر رہے۔ ایک جانب چیف جسٹس شاہانہ پروٹوکول کا نوٹس لیتے ہوئے سیاستدانوں سے گاڑیاں واپس لے رہے ہیں تو دوسری جانب نگران وزیر اعظم ٹھاٹھ باٹھ میں سب کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔