مطلقہ خاتون نے نان و نفقہ کی خاطر جعلی دستاویزات تیار کر ڈالیں

سابقہ خاوند کی طرف سے جعلسازی کا مقدمہ درج کروا دیا گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ جون 14:30

مطلقہ خاتون نے نان و نفقہ کی خاطر جعلی دستاویزات تیار کر ڈالیں
شارجہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 6 جُون 2018ء) شارجہ کی مقامی عدالت میں ایک خاتون پر اپنے سابقہ خاوند سے نان و نفقہ لینے کی خاطر جعلی دستاویزات تیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک خلیجی ریاست سے تعلق رکھنے والے شخص نے پولیس میں شکایت درج کروائی کہ اُس کی سابقہ بیوی نے ایک دستاویز پر اُس کے جعلی دستخط کر ڈالے ہیں۔

زیر سماعت مقدمے میں عدالت کی جانب سے خاتون پر سابقہ خاوند کے جعلی دستخط کرنے کی فرد جُرم عائد کر دی گئی ہے۔ عدالت کی جانب سے جرح کے دوران خاتون نے دعویٰ کیا کہ اُس کے سابقہ خاوند نے یہ مقدمہ بدنیتی کے تحت درج کروایا ہے کیونکہ اُس نے اپنے اُس سے اپنے نان و نفقہ کا مطالبہ کر رکھا ہے جسے اُس نے ابھی تک پُورا کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

(جاری ہے)

ملزمہ کا مزید کہنا تھا کہ اُس کا خاوند اچھی طرح جانتا تھا کہ اُس نے اُس کے جعلی دستخط کیے اوریہ سب اس کی رضامندی سے ہوا تھا کیونکہ یہ دستخط کرتے وقت اُس کے سابقہ خاوند کی ماں بھی موقع پر موجود تھی۔ یہ مبینہ جعلی دستخط والی درخواست شارجہ کے شہریت اور غیر ملکیوں کے ڈیپارٹمنٹ کو بھیجی گئی تھی جس کا مقصد دو گھریلو ملازماؤں کے لیے ورک ویزہ حاصل کرنا تھا۔

۔ کیس کی سماعت اگلی تاریخ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔ جبکہ عدالت میں زیر سماعت ایک اور کیس میں ایک افریقی شخص کو نکاح نامے میں کسی اور شخص کا نام اور شہریت درج کرنے کے مقدمہ کا سامنا ہے۔ جس نے یہ دستاویز شہریت اور رہائش کے ڈیپارٹمنٹ میں جمع کروائی تھی۔ ملزم نے اس مقدمے میں خود کو مجرم نہ قرار دینے کی درخواست دائر کی ہے۔ عدالت نے ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے اُسے درست نام ‘ تاریخ اور معلومات پر مبنی دستاویز جمع کروانے کے لیے مہلت عطا کر دی ہے۔