ٹیکس اہداف کے حصول کے لئے تمام ممکنہ کوششیں بروئے کار لائی جائیں

نگران وزیر خزانہ، ریونیو، اقتصادی امور، شماریات و منصوبہ بندی ڈاکٹر شمشاد اختر کی ایف بی آر کو ہدایت مختلف ایمنسٹی سکیموں اور ٹیکس ری بیٹ کے مجموعی محصولات کے اہداف پر اثرات بارے رپورٹ طلب کر لی

بدھ جون 14:44

ٹیکس اہداف کے حصول کے لئے تمام ممکنہ کوششیں بروئے کار لائی جائیں
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) نگران وزیر خزانہ، ریونیو، اقتصادی امور، شماریات و منصوبہ بندی ڈاکٹر شمشاد اختر نے جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح کو بڑھانے اور ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے ٹیکس نظام کی اپ گریڈیشن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ رواں مالی سال کے ٹیکس اہداف کے حصول کے لئے تمام ممکنہ کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔

وہ بدھ کو رواں مالی سال 2017-18ء کے لئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے متعلق اجلاس کی صدارت کر رہی تھیں۔ چیئرمین ایف بی آر طارق محمود پاشا نے انہیں نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دی اور ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس وصولیوں اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات دینے سے متعلق اقدامات کے بارے میں پریزنٹیشن دی۔

(جاری ہے)

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح جو 2012-13ء میں 8.7 فیصد تھی، بڑھ کر 2017-18ء میں 12.4 فیصد ہو گئی ہے۔

اسی طرح گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد 14 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ 300 ارب روپے کے ایس آر اوز ختم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے ٹیکس دہندگان کی سہولت اور ریفنڈز کے سلسلے میں کئے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ وزیر خزانہ نے ملک کی مجموعی اقتصادی صورتحال اور ایف بی آر کی اہمیت پر بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے درکار مالی ضروریات پوری کرنے کے لئے جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایف بی آر کے چیئرمین سے سابق حکومت کی جانب سے مختلف ایمنسٹی سکیموں اور ٹیکس ری بیٹ کے مجموعی محصولات کے اہداف پر اثرات کے بارے میں رپورٹ طلب کی۔ وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے سینئر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔