سارک چیمبر کے سینئر نائب صدر افتخار علی ملک کی ڈاکٹر شمشاد اختر کو نگران وفاقی وزیر خزانہ و اقتصادی امور کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد

نگران حکومت ان بنیادی اقتصادی اور سماجی چیلنجوں کو حل کرنے کیلئے اقدامات کرے جو سیاسی رہنماؤں کی طرف سے عرصہ سے نظر انداز کئے جاتے رہے ہیں‘افتخار علی ملک

بدھ جون 14:44

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) سارک چیمبر آف کامرس کے سینئر نائب صدر افتخار علی ملک نے ڈاکٹر شمشاد اختر کو نگران وفاقی وزیر خزانہ و اقتصادی امور کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ نگران حکومت قومی معیشت کی بحالی کے لئے جنگی بنیادوں پر اصلاحات کرے گی۔ بدھ کو یہاں جاری بیان میں افتخار علی ملک نے کہا کہ مضبوط معیشت ملکی بقاء اور جمہوریت کے استحکام کے لئے انتہائی ضروری ہے اس لئے نگران حکومت ان بنیادی اقتصادی اور سماجی چیلنجوں کو حل کرنے کیلئے اقدامات کرے جو سیاسی رہنماؤں کی طرف سے عرصہ سے نظر انداز کئے جاتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلا اور فوری اقدام ملک میں انسانی مصائب کا خاتمہ ہونا چاہیئے کیونکہ پاکستان میں ایک تہائی لوگ اقوام متحدہ کی متعین کردہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، صحت، تعلیم،، خواتین کی حیثیت اور بچوں کی اموات کے حوالے سے پاکستان کے سماجی اشاریے دنیا میں سب سے نیچے ہیں اور گزشتہ چند سالوں میں غربت میں کمی کیبجائے اضافہ ہوا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اخراجات میں کٹوتی، ایک جامع جی ایس ٹی، جس کا مقصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو پانچ سالوں میں 8.5 سے 15 فیصد تک بڑھانا ہو، سٹیٹ بینک کی مکمل خودمختاری اور افراط زر پر کنٹرول، این ایف سی ایوارڈ کا نفاذ، زرعی آمدنی پر ٹیکس ، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مالی سبسڈیوں کا مکمل جائزہ اور استحکام اور بڑے نقصان میں جانے والے پبلک سیکٹر اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

افتخار علی ملک نے کاروباری برادری کی طرف سے ڈاکٹر شمشاد اختر کو یقین دہانی کرائی کہ وہ تیز رفتار ترقی کی راہ میں حایل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے ہر اقدام کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے امید طاہر کی کہ ڈاکٹر شمشاد اختر اقتصادی بحالی اور افراط زر کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چین کی طرز پر تیز رفتار صنعتی ترقی کے لئے بجلی اور گیس کے ٹیرف کے خصوصی پیکیج پیش کئے جائیں اور ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج فوری طور پر ختم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کے باوجود ملکی برآمدات میں کمی کا رجحان تشویشناک ہے اور متعلقہ صنعت کے کارکن بیروزگار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایکسپورٹ فرینڈلی پالیسیاں اور ان کے مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائے تاکہ ملک ترقی اور خوشحالی کا سفر جاری رہے۔