یورپ شامی مہاجرین کی آمد میں کمی کا خواہشمند ہے تو شام کی مدد کرنا پڑے گی،روسی صدر پیوٹن

بدھ جون 15:23

ماسکو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) روسی صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ اگر یورپ شامی مہاجرین کی آمد میں کمی کا خواہشمند ہے تو یورپ کو شام کی مدد کرنا پڑے گی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ یورپ شام اور ہمسایہ ممالک سے مہاجرین کی رو میں کمی کرنا چاہتا ہے تو اسے شامیوں کی مدد کرنا ہو گی۔

(جاری ہے)

ولادی میر پوتن نے روس اور آسٹریا کے درمیان 1968 میں طے پانے والے گیس کے سمجھوتے کی 50 ویں سالانہ یاد کے موقع پر آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں صدر الیگزینڈر وان در بیلن اور وزیر اعظم سباسٹئین کروز کے ساتھ ملاقات کی۔

کروز کے ساتھ ملاقات میں پوتن نے کہا کہ اگر یورپ چاہتا ہے کہ شامی مہاجرین کی یورپ آمد میں کمی ہو تو اسے شامیوں کی مدد کرنا ہو گی۔۔مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ٹیکسوں کے امتیاز کو جاری رکھے جانیا ور جدت کے شعبے میں تعاون سمیت مختلف شعبوں میں سمجھوتوں پر دستخط کئے گئے۔پوتن کا دورہ آسٹریا نئے دور حکومت میں ان کا پہلا بیرون ملک دورہ ہونے کے ساتھ ساتھ حالیہ مہینوں میں ان کے مغربی یورپی ممالک کے پہلے دورے کی حیثیت رکھتا ہے۔