ملکی سالمیت کیلئے نقصان دہ کالا باغ ڈیم کے بجائے متبادل اختیار کیا جائے، پاکستان اکانومی واچ

قومی پیداوار اور برامدات میں زبردست اضافہ ، پاکستان بجلی برامد کرنے والا ملک بن جائے گا،ڈاکٹرمرتضی مغل

بدھ جون 15:29

ملکی سالمیت کیلئے نقصان دہ کالا باغ ڈیم کے بجائے متبادل اختیار کیا ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم پر قومی اتفاق رائے نہ ہونے کے سبب اس منصوبہ کو ماضی کی کئی حکومتوں نے ناقابل عمل قرار دیا ہے اس لئے ملکی سالمیت کیلئے نقصان دہ منصوبہ کی تعمیر پر زور دینے کے بجائے متبادل راستہ اختیار کیا جائے۔دوست ملک چین نے دریائے سندھ کے کناروں پر چالیس عدد ماحول دوست گریوٹی ڈیم بنانے کی تجویز دی ہے جس کی مالیت کالاباغ ڈیم سے دگنی مگر بجلی کی پیداوار چودہ گنا زیادہ یعنی پچاس ہزار میگا واٹ ہو گی جس پر عمل درامد سے قومی پیداوار اور برامدات میں زبردست اضافہ اورپاکستان بجلی برامد کرنے والا ملک بن جائے گا۔

ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ چینی تجویز قابل عمل ہے کیونکہ اس نے پہلے ہی چشمہ کے مقام پر دو سو اسی میگاواٹ کا ایک چھوٹا گریوٹی ڈیم بنایا ہوا ہے۔

(جاری ہے)

دنیا بھر میں بڑے ڈیموں کے مقابلہ میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کو ترجیح دی جا رہی ہے۔اسکے علاوہ جاپان کی طرز پر بہتے پانی پر سستے جنریٹرز نصب کرکے فراوانی سے بجلی پیدا کی جا سکتی جسے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

کالا باغ کے مخالفین کے مطابق یہ سالٹ رینج پر واقع ہے جس سے اپ سٹریم پر جھیل کا پانی نمکین ہو کرزرعی پیداوار ختم کر دے گا جبکہ ڈاؤن سٹریم پر کراچی تک پانی نایاب ہو جائے گا۔اس کے مقابلہ میں داسو ، دیا میر بھاشا اور منڈا ڈیموں سے مجموعی طور پر9520 میگاواٹ بجلی کی پیداوار اور دیگر فوائد کالاباغ ڈیم سے زیادہ ہیں مگر سابقہ حکومت نے انھیں ترجیح دینے کے بجائے اورنج اور میٹرو جیسے نمائشی منصوبوں پر کھربوں روپے ضائع کر ڈالے ۔

کالا باغ ڈیم پر تین صوبوں میں شکوک پائے جاتے ہیں اور صوبائی اسمبلیاں اسکے خلاف قراردیں منظور کر چکی ہیں جبکہ داسو ، دیا میر بھاشا اور منڈا ڈیموںکے بارے میں قومی اتفاق رائے موجود ہے یہ پتھریلے پہاڑوں میں واقع ہیں، قریب آبادی بھی نہیں ، انکی انچائی اور پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کالا باغ ڈیم سے زیادہ ہے ۔داسو ، دیا میر بھاشا اور منڈا ڈیم کی اپ رائزنگ ھو سکتی ہے جبکہ کالا باغ ڈیم کی اپ رائزنگ ممکن نہیں۔

داسو ، دیا میر بھاشا اور منڈا ڈیم میں سیلٹنگ کا مسئلہ بھی نہیں ہو گاجبکہ کالا باغ ڈیم کو 15 سال کے اندر ڈی سلٹنگ کی ضرورت ہو گی۔۔کالا باغ ڈیم سے تربیلہ ڈیم کوکوئی فائدہ نہیں جبکہ دیا میر بھاشا اور داسو ڈیم کے بنے سے تربیلہ کی زندگی میں 50 سال کا اضافہ ہو گا اس لئے انکی تعمیر جنگی بنیادوں پر کی جائے۔