کشمیر کونسل کے اختیارات کم کرکے آزاد حکومت کو با اختیار بنانا فاروق حیدر کا عظیم کارنامہ ہے‘ڈاکٹر محمود الحسن

کشمیری اپنے محسن کو تاقیامت یاد رکھیں گے،کشمیر کونسل کے اختیارات کم کرنے کی مخالفت کرنے والے سیاسی نابالغ ہیں ،ْصحافیوں سے گفتگو

بدھ جون 15:29

کوٹلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) مسلم لیگ(ن)آزادکشمیر کے رہنما ،ریٹائرڈ سیکرٹری بلدیات ڈاکٹرمحمود الحسن نے کہا ہے کہ کشمیر کونسل کے اختیارات کم کرکے آزاد حکومت کو با اختیار بنانا فاروق حیدر کا عظیم کارنامہ ہے،کشمیری اپنے محسن کو تاقیامت یاد رکھیں گے۔کشمیر کونسل کے اختیارات کم کرنے کی مخالفت کرنے والے سیاسی نابالغ ہیں ،اپنی سیاست کو بچانے کے لیے ان لوگوں کو ریاست کا تشخص داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔

مخالفین صرف یہ سوچیں کہ آزادحکومت نے کو ئی انہونی نہیں کی ہے ،ذرا غور کریں کہ پاکستان میں سینٹ کے پاس مالی اختیارات نہیں ہیںتو کشمیر کونسل کے پاس یہ اختیارات کیوں تھی ۔مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیرنے مسلم کانفرنس کی کوکھ سے جنم لیا،آزادکشمیر کو صوبہ بنانے کے ہم بھی اتنے ہی مخالف ہیں جتنے مسلم کانفرنسی ہیں ۔

(جاری ہے)

ہم چاہتے ہیں کشمیر آزادہوکر پاکستان کے ساتھ الحاق کرے اور اپنی یہ جدوجہد ہم جاری رکھیں گے۔

فاروق حیدر کی پوری ٹیم نے بہت محنت کی، پریشانیوں اورسازشوں کا سامنا کیا مگر آزادحکومت کو بااختیار بنانے کو جوخواب مسلم لیگ(ن) آزادکشمیر نے دیکھا تھا وہ قائد پاکستان میاں نواز شریف کی ذاتی دلچسپی کے باعث تعبیر بن چکا ہے،پوری کشمیری قوم میاں نواز شریف کی مشکور ہے۔ان خیالات کا اظہار اُنھوں نے ڈسٹرکٹ پریس کلب کوٹلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر محمود الحسن کا مزید کہنا تھا کہ بھارت اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے پاکستان کو بنجر بنانے کے درپے ہے،ہماراپانی روکا جا رہا ہے اور یہ بھارتی عزائم جاری رہے تو ہم پانی کی وبوند بوند کو ترس جائیں گے۔ اُنھوں نے پانی کے مسئلے کا حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ طے سندھ طاس معائدے کو ’’ری وزٹ‘‘ کرنا چاہیے، پاکستان کو چاہیے کہ دنیا کے ذریعے بھارت پر دباؤڈال کر اُسے مذاکرات کی میز پر لائے اور پانی کی تقسیم کے حوالے معاملات کو از سر نو طے کرے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمود الحسن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آزادکشمیر میں اس وقت پانی سب سے بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے، آپ اپنے شہر کوٹلی کی حالت دیکھ لیں کہ یہاں پانی کی فراہمی کی کیا صورتحال ہے۔ اُن کا کہنا تھا بحیثیت حکمران جماعت کے کارکن ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری ہے کہ اس اہم مسئلہ کے حل کے لیے کوششوں کا آغاز کیا جائے اور ہم اس بات سے غافل نہیں ہیں ، ہمیں میڈیا ، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور آزادکشمیر کی طرح کوٹلی کے لوگ بھی پانی کی کمی کے مسئلہ سے فوری نجات حاصل کریں ۔ کوٹلی میں گریٹر واٹر سپلائی سکیم کی تکمیل اب بھی ہوجائے تو بہت سے کام آسان ہو سکتے ہیں ، میں کوشش کرونگا اس سلسلہ میں وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان سے خصوصی ملاقات کروں ۔ مجھے اُمید ہے قائد کشمیر راجہ فاروق حیدر کوٹلی کے عوام کے اس سنگین مسئلہ کے حل کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات اُٹھائیں گے۔