سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری سے بد سلوکی کیس میں سزا پانے والے ایس پی جمیل ہاشمی برس پڑے

ایک جعلی رپورٹر کے بیان پر مجھے سزا دی گئی، مجھے سزا ہونے سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ پاکستان میں قانون اندھا ہے، ایس پی جمیل ہاشمی کا سپریم کورٹ میں فیصلے کے بعد ردعمل کا اظہار

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ جون 15:47

سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری سے بد سلوکی کیس میں سزا پانے والے ایس پی ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔06 جون 2018ء)  ایس پی جمیل ہاشمی کا  سپریم کورٹ میں فیصلے کے بعد ردعمل کا اظہار  کرتے ہوئے کہنا تھا کہ  ایک جعلی رپورٹر کے بیان پر مجھے سزا دی گئی، مجھے سزا ہونے سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ پاکستان میں قانون اندھا ہے۔۔سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے بدسلوکی کرنے والے پولیس افسران اور 2007 میں اسلام آباد انتظامیہ کے اعلی عہدیداروں کو سزا کا فیصلہ برقرار رکھا ہے ۔

افتخار محمد چودھری بدسلوکی کیس میں گیارہ سال بعد سزا ہونے پر ایس پی جمیل ہاشمی سپریم کورٹ میں فیصلے کے بعد ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج ثابت ہو گیا ہے کہ یہ اندھا قانون ہے،اور اس کیس میں ایک بے گناہ بندے کو سزا دی گئی ہے۔مجھے صرف اور صرف ایک جعلی اخبار کے رپورٹر کے بیان کے اوپر سزا دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اور میں روزے کے ساتھ ہوں اور کلمہ پڑھ کر کہتا ہوں کہ میں اس جگہ پر موجود ہی نہیں تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا،اور مجھے سزا ہونے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ پاکستان میں اندھا قانون ہے۔

یا د رہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے آج افتخار محمد چوہدری توہین عدالت کیس کا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے ملزموں کی بریت کی درخواستیں مسترد کر دی۔اور اسلام آباد پولیس اور سابقہ انتظامیہ کے خلاف سزا کا فیصلہ برقرار رکھا گتوہین عدالت کے مجرموں میں سابق چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز، سابق آئی جی پولیس اسلام آباد چوہدری افتخار احمد شامل ہیں، سابق ڈی سی اسلام آباد چوہدری محمد علی،، سابق ایس ایس پی اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈ ظفر اقبال، موجودہ ایس پی جمیل ہاشمی، ڈی ایس پی رخسار مہدی اور ریٹائرڈ پولیس اے ایس آئی سراج احمد شامل ہیں۔

توہین عدالت کے مجرموں میں سابق چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز کو عدالت برخاست ہونے تک جبکہ سابق آئی جی پولیس اسلام آباد چوہدری افتخار احمد کو پندرہ دن سزا ہوئی تھی۔