اپنے دور حکومت میں معزز ایوان ، بار کونسل ، بار ایسوسی ایشنز ، دانشوروں اور سیاستدانوں سمیت تمام مکاتب فکر کو اعتماد میں لیکر ایکٹ 1974ء میں پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیکر جانفشانی سے ایسی ترامیم تیار کی تھیں جو ریاست کو باوقار حکومت کو بااختیار اور وفاق کے لئے بھی اعتماد سازی کی 1973کے آئین کی مماثلت میں متفقہ قومی دستاویز ہے

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی رہنماو سابق وزیراعظم ، سینئر پارلیمنٹیرین چوہدری عبدالمجید کی بات چیت

بدھ جون 16:03

لندن /مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی رہنماو سابق وزیراعظم ، سینئر پارلیمنٹیرین چوہدری عبدالمجید نے کہا ہے کہ میں نے اپنے دور حکومت میں معزز ایوان ، بار کونسل ، بار ایسوسی ایشنز ، دانشوروں اور سیاستدانوں سمیت تمام مکاتب فکر کو اعتماد میں لیکر ایکٹ 1974ء میں پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیکر جانفشانی سے ایسی ترامیم تیار کی تھیں جو ریاست کو باوقار حکومت کو بااختیار اور وفاق کے لئے بھی اعتماد سازی کی 1973کے آئین کی مماثلت میں متفقہ قومی دستاویز ہے ۔

موجودہ حکومت نے عجلت ، عدم مشاورت ، کریڈٹ لینے کے زعم اور اعتماد سازی کو بلڈوز کرکے نہ صرف اداروں سے چومکھی لڑائی شروع کررکھی ہے بلکہ ایسی ترمیم بھی قبول کرلی ہیں جو ریاست اور آنیوالی نسلوں کیلئے زہر قاتل اور تحریک آزادی کشمیرکے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں ۔

(جاری ہے)

اب بھی وقت ہے کہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان اب بھی ہٹ دھرمی ترک کرکے تمام جمہوری قوتوں اور ماہر آئین قانون ، شخصیات پرمشتمل آل پارٹیز کانفرنس طلب کرکے آئینی ترامیم میں موجود سقم دور کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں البتہ صدر ریاست سردار مسعود خان کا آئینی ترامیم سے متعلق زیر بحث کردار مسلم لیگ ن کی حکومت ، کابینہ ،پارٹی اور پارلیمانی پارٹی کے سوچنے کیلئے سنجیدہ ترین عمل ہے ۔

وہ گزشتہ روز لندن سے پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی سیکرٹری شوکت جاوید میر سے گفتگو کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے دور حکومت میں محمد مطلوب انقلابی کی سربراہی میں قائم ہونے والی کمیٹی نے جو آئینی ترامیم تیار کی تھیں ان پر تفصیلی مشاورت کیلئے سپریم کورٹ ، ہائیکورٹ کے موجودہ ، ریٹائرڈ معزز جج صاحبان ، بار کونسل، بار ایسوسی ایشنز سے رہنمائی حاصل کی جائے اور یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں مشاورت سے تیار کی جانیوالی ترامیم میں موجودہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کلیدی کردار بھی ادا کیا اور بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ بھی کیا لیکن جب ان کی اپنی باری آئی تو انہوں نے سولو فلائٹ کی وجہ سے سارے کئے کرتائے پر پانی پھیر دیااور جیتی ہوئی بازی کو خود ہی اپنے ہاتھوں سے متنازعہ بنا دیا لیکن قوموں کے مستقبل کیلئے بڑے فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نظر ثانی کا عمل دنیا بھر میں موجود ہے ۔

چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہر عمل میں اعتماد سازی کے کلچر کو فروغ دیا اور تحریک آزادی کشمیر سمیت قومی مفادات کے تمام فیصلوں میں سیاسی جماعتوں کے سربراہان ، اسمبلی سمیت تمام متعلقہ اداروں کو شامل کیا لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ عبوری ایکٹ 1974ء تیرہویں ترمیم کے بعد اگرچہ عبوری آئین کی حیثیت اختیار کرچکا ہے اس کی تمام متنازعہ شقوں کو اتفاق رائے سے ختم کیا جائے ۔

چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیریوں کو قومی دھارے میں شامل کیا ۔دنیابھر کے ایوانوں میں حق خودارادیت کی بیباک وکالت کی ۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے آزادی کے مقدس مشن کو جاری رکھتے ہوئے کشمیری قیادت کو اعتماد سازی کے عمل میں شریک کیا اور دنیا بھر کے ایوانوں میں مسئلہ کشمیر کے نیو کلیئر فلیش پوائنٹ بنانے میں ساری توجہ مرکوز کی ۔

اب پاکستان میں انتخابات کا دور دورہ ہے جس کیوجہ سے مسئلہ کشمیر انتخابی مہم اور کرسی اقتدار کی گن گرج میں دب کر رہ چکا ہے ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کی خونریزی کے سفاک عمل کو تواتر سے جاری رکھا ہوا ہے ۔ بھارت کی طرف سے رمضان المبارک میں سیز فائر کا اعلان محض دھوکہ اور 15کے لگ بھگ کشمیریوں کی شہادت اور بیشمار افراد کے زخمی کرنے کا ڈھونگ نکلا ۔

اس لئے لازم ہوچکا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر ، تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندہ افراد پر ایک اعلیٰ سطحی وفد تشکیل دیکر پاکستان کے تمام سیاستدانوں کے بھیجے جو ان پر زور دیں کہ وہ اپنی ترجیحات میں مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو شامل کریں ۔ جس طرح پیپلز پارٹی کے جواںسال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ، سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری ، سیاسی امور کی چیئرپرسن محترمہ فریال تالپور نے شہداء کی روایت کو جاری رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اپنے منشور کا نمبر 1ایجنڈا بنا رکھا ہے اسی طرح باقی سیاستدان بھی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ، مصور پاکستان ڈاکٹر علامہ اقبال کے ارشادات اور فرمودات کے مطابق اپنی پالیسیاں ترتیب دیتے ہوئے بہادر افواج پاکستان ، قومی سلامتی کے اداروں اور قومی مفادات کو پروان چڑھانے میں آنیوالی نسلوں کی رہنمائی اور قوم کو اجتماعی کردار کیلئے تیار کریں۔