بااثر نوجوانوں کا محنت کش رکشہ ڈرائیور کو اغواء کر کے F1میں واقع گھر میں 2گھنٹے حبس بے جا میں رکھ کر تشدد

رکشہ ڈرائیور نے پولیس تھانہ تھوتھال میں درخواست دیدی

بدھ جون 16:03

میرپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) بااثر نوجوانوں کا محنت کش رکشہ ڈرائیور کو اغواء کر کے F1میں واقع گھر میں 2گھنٹے حبس بے جا میں رکھ کر تشدد، رکشہ ڈرائیور نے پولیس تھانہ تھوتھال میں درخواست دی جس پر پولیس کا رروائی کرنے کے بجائے راضی نامہ کرنے کے لیے دبائو ڈالنے لگی۔ متاثرہ ڈارئیور ،عینی شاہدین سمیت شہریوں پر مشتمل وفد کی SSPسے ملاقات، SSPمیرپور نے DSPسے رپورٹ طلب کر لی۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بن خرماں کا رہائشی غریب و محنت کش رکشہ ڈرائیور وسیم عباس میاں محمدروڈ پر رکشہ چلا رہا تھا کہ پیچھے ایک گاڑی نمبر VITZ999رنگ سیاہ نے رکشہ کو ٹکر ماری ۔ جس پر گاڑی میں بیٹھے بااثر نوجوانوں کے اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے غریب رکشہ ڈرائیور کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔

(جاری ہے)

اور سرے بازار گالم گلوچ کرتے ہوئے رکشہ ڈرائیور کو گاڑی میں ڈال کر F1گول مسجد کے قریب ایک گھر میں تقریباً 2گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھتے ہوئے رکشہ ڈرائیور پر تشدد کیا ۔

اس سارے واقعہ کی اطلاع رکشہ ڈرائیور نے پولیس تھانہ تھوتھال کو دی جس پر تھانہ تھو تھال نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کا سراغ لگایا۔ جو کہ میرپور کی ایک بااثر شخصیت/جیولر کے بیٹے ہیں ۔ ملزمان نے پولیس کے سامنے درخواست گزارکی موجودگی میں سارے وقوعہ کو تسلیم بھی کیا۔ لیکن بعدا زاں پولیس بااثر پارٹی کو بچانے کے لے رکشہ ڈرائیور پر راضی نامہ کرنے کے لے دبائو ڈالنے لگی اور کارروائی سے گریزاں کرتی رہی جس پر رکشہ ڈرائیور سمیت شہریوں کے ایک وفد نے SSPمیرپور سے ملاقات کی اور سارے وقوعہ سے آگاہ کیا جس پر SSPمیرپور مکمل کارروائی کرنے کا یقین دلاتے ہوئے DSPسٹی سے رپورٹ طلب کر لی اس موقع پررکشہ ڈرائیور سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ورکرز رکشہ یونین کے سیکرٹری جنرل شوکت حسین نے کہا کہ غریب رکشہ ڈرائیور سے زیادتی کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔

پولیس فوری طور پر ملزمان کے خلاف کارروائی کرے بصورت دیگر رکشہ ڈرائیورز بھرپور احتجاج کریں گے۔