یوم شہادت امیر المومنین حضرت علی ؓریاست کے دونوں اطراف بھرپورعقیدت و احترام کیساتھ منایا گیا

بدھ جون 16:04

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) یوم شہادت امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ،ریاست کے دونوں اطراف پاکستان و دُنیا بھرمیںبھرپورعقیدت و احترام اور اس عہد کی تجدیدکیساتھ منایا گیا کہ دہشتگردی و سفاکیت کی کسی شکل کو قبول نہیں کیا جائیگا۔اور ارفع و اعلیٰ مقاصد کے حصول کیلئے فکر علی کرم اللہ سے روشنی لی جائیگی ۔

اس موقع پرمرکزی انجمن جعفریہ کے تحت حسب سابق مرکزی امام بارگاہ میںخصوصی مجلس عزا و جلوس کا انعقادکیا گیاا۔ماتمی دستوں سمیت کثیر تعداد میں مُحبان محمد و آل محمدؐجلوس شبہیہ تابوت امیر المومنین میں شریک ہوئے ۔ مرکزی جلوس بعد ازنماز ظہرین مرکزی امام بارگاہ پیر سید عًلم شاہ بخاری سے برآمد ہوا۔جو اپنے روایتی راستوں سے گرزتے ہوئے قبل از مغرب واپس امام بارگاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔

(جاری ہے)

جہاں حسب سابق افطار اور نماز مغربین کا اہتمام کیا گیا۔ یوم شہادت امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کے موقع پر ریاستی دارالحکومت مظفرآباد سمیت ضلع جہلم ویلی میں بانڈی سیداں ، کچھا سیداں ،بیلہ پاہل،پانڈی چکوٹھی سمیت درجنوں مقامات، نیلم ویلی میں میرپورہ صندوک سیداں سمیت دس مقامات ،باغ ،راولاکوٹ ،کوٹلی ،میر پور سمیت متعدد مقامات پر مجالس عزا کا انعقاد کیا ہوا ۔

جبکہ کئی ایک مقامات پر جلوس ہا ماتم بھی برآمد ہوئے۔ مجالس ہا و جلوس ہا کے دوران قومی سلامتی کے اداروں سمیت پولیس و انتظامیہ شدیدگرم میں متحرک رہے ۔ قبل ازیں نماز ظہرین کے بعدمرکزی امام بارگاہ پیر سید علم شاہ بخاری میں خصوصی مجلس عزا کا انعقاد ہوا۔جس میں مُحبان و مومنین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ زعیم ملت مفتی کفایت حسین نقوی ،مولانا شیخ غلام حسین صابری خطیب مرکزی جامع مسجد جعفریہ ،الحاج احمد علی سعیدی ، ودیگر فضائل و مناقب امیر المومنین بیان کئے ۔

مفتی کفایت حسین نقوی نے مجلس یوم شہادت امیر المومنین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وجود کی جوازیت اسلامی نظریہ ہے ،جس پر کامل ایمان کیساتھ مسلمانان برصغیر نے لاکھوں قربانیاں دیں ۔اور مملکت کا قیام عمل میں آیا ۔مگر بدقسمتی سے آج پاکستان تو ہے ،لیکن وہ اسلامی نظریہ کہیں کھو چکا ہے ۔جس کے تحت اسکا وجود بنا۔اگر امیر المومنین کے طرز حکومت کو اختیار کرلیا جاتا،تو آج پاکستان امن کا گہوارہ ہوتا ۔

جزا و سزا اللہ کا قانون ہے ۔اور اس پر عمل کیلئے منصف کا دامن پاک و صاف ہونا ضروری ہے۔امیر المومنین نے جتنے فیصلے کئے ۔وہ ہر منصف مزاج کیلئے کھلی دعوت فکر ہیں۔امیر المومنین علی کرم اللہ نے تعلقات کا پیمانہ بھی دیدیا ،یعنی دوستی اور دشمنی صرف اللہ کیلئے ہونی چاہیے ۔ذاتیات کا کوئی عمل دخل نہ ہو ۔اگر کسی حکمران میں ایسی صفات موجود ہوں ،وہ قوم کی تعمیر کریگا ۔اُمت مسلمہ جسے فراموش کرکے دُنیا میں رسوائی کا سامنا کررہی ہے ۔مفتی کفایت حسین نقوی نے مذید کہا کہ رسول اکرم ؐ نے جو فضائل امیر المومنین بیان فرمائے ۔اُنھیں سمجھے بغیر معرفت نہیں حاصل ہوسکتی ۔

متعلقہ عنوان :