وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے پاکستان بشمول آزاد جموں و کشمیر کے طلبائ/طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کی سکیم کے تحت جامعہ کشمیر مظفرآباد کے انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کے ہال میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد

بدھ جون 16:07

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے پاکستان بشمول آزاد جموں و کشمیر کے طلبائ/طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کی سکیم کے تحت جامعہ کشمیر مظفرآباد کے انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کے ہال میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان تھے جبکہ تقریب کی صدارت وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے کی۔

تقریب میں ہائیرایجوکیشن کمیشن پاکستان کی طرف سے بھیجے گئے لیپ ٹاپ جامعہ کے 625طلباء /طالبات میں تقسیم کیئے گئے ان میں تقریباً310لیپ ٹاپ ایم فل /پی ایچ ڈی سکالرز جبکہ بقایا 315کے قریب لیپ ٹاپ بی ایس پروگرام میں ٹاپ پوزیشنز حاصل کرنے والے مختلف شعبہ جات کے طلبہ میں تقسیم کیئے گئے۔

(جاری ہے)

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے لیپ ٹاپ حاصل کرنے والے طلبہ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان اور حکومت پاکستان کی اس سہولت اور اس کے فواہد کا ذکر کرتے ہوئے طلبہ کو باور کرایا کہ وہ لیپ ٹاب کو تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف بطور ایک ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔

انہوں نے انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کو منفی سرگرمیوں،کردار کشی اور با عزت لوگوں کی ذاتی زندگی کو آئے روز خراب کرنے کے طور پر استعمال کرنے کی شدید مزمت کرتے ہوئے طلبہ کو باور کرایا کہ ملک میں پروان چڑھنے والے اس کلچر کو نئی نسل تبدیل کر سکتی ہے اور سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ کو مثبت سرگرمیوں کے لیئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایم فل /پی ایچ ڈی سکالرز کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ریسرچ اور تحقیق کو اپنی تعلیم کی بنیاد بنائیں اور ریسرچ کریں جس کی بنیاد آزاد کشمیر کی ریاست کے ایشوز اور مسائل پر ہو تا کہ ان کی کاوش ‘محنت اور ٹائم کا ہماری ریاست کو بھی کوئی فاہدہ پہنچ سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پر حکومت کے بے پناء اخراجات کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہاں سے ایک ایسی نسل تیار کی جا سکے جو آگے چل کر ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالے اور ملک و قوم کے مسائل کے حل کے لیئے اس کے پاس ٹھوس تجاویز اور قابل عمل فارمولا ہو۔ وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ وہ جامعات اور کالجز میں سٹوڈنٹس یونین پابندی کے خاتمے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور سلسلہ میں جلد جامعات کے وائس چانسلرز سے میٹنگ کر کے ان سے تجاویز مانگیں گے تا ہم انہوں نے واضح کیا کہ سٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں حصہ لینے والوں کے لیئے سخت شرائط کا تصور ہو گا جس میں ان کے میرٹ اور کلاس میں حاضری کی شرح کا خصوصی خیال رکھا جائے گا۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے جامعہ کشمیر کے تعمیراتی پراجیکٹس با الخصوص چھتر کلاس کیمپس کی تعمیر اور نیلم و جہلم کیمپسز کے لیئے زمین کے حصول کے لیئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی کی کاوشوں کو بہت سراہا اور وائس چانسلر کی طرف سے چہلہ کیمپس مظفرآباد میں ایک آڈیٹوریم کی تعمیر کے مطالبہ کو جائز قرار دیتے ہوئے آڈیٹوریم کو امسال کے میزانیہ میں شامل کیئے جانے کی منظوری کا اعلان کیا۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ وہ اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے باہر ‘ریاستی باشندوں کی فلاح و بہبود اور ریاست کے تشخص اور مثبت تبدیلی کے لیئے اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں ایکٹ 1974میں ہونے والے حالیہ ترمیم اور اس کے ریاستی عوام پر اثرات کا تفصیلی ذکر کیا۔۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا جامعہ کشمیر کے تعمیراتی پروجیکٹس میں حکومت آزاد کشمیر بھرپور تعاون کرے گی۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو تقریب آمد پر خوش آمدید کہا اور ان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے تقریب میں شریک ہو کر جامعہ کے طلبہ/طالبات کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ انہوں نے لیپ ٹاپ حاصل کرنے والے طلباء طالبات کو مبارک باد پیش کی اور انہیں بتایا کہ وزیر اعظم ریاست سے لیپ ٹاپ حاصل کرنا آپ کے لیئے روبرو اعزاز ہے۔

وائس چانسلر نے وزیر اعظم کو یونیورسٹی کی مکانیت سے متعلقہ مسائل اور نیلم اور جہلم کیمپسز کے لیئے زمین کے حصول کے لیئے جاری کاوشوں کے بارے میں بتایا ۔وائس چانسلر نے بتایا کہ سیاہ قلم کمپنی نے یونیورسٹی کو ایک بریفنگ کے ذریعے مکمل یقین دہانی کروائی ہے کہ مارچ2019تک چھتر کلاس کیمپس مکمل کر کے یونیورسٹی کے حوالہ کر دیا جائے گا۔ اس کیمپس میں جدید طرز کی لیبارٹریز کے قیام کے لیئے صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کی کاوشوں سے سعودی حکومت ایک ارب سے زائد کے فنڈز دینے پر تیار ہو گئی ہے۔

اس طرح نیلم اور چہلہ کیمپس کی مکمل تعمیر کے لیئے ایک میگا پراجیکٹ پلاننگ کمیشن میں جمع کروادیا گیا ہے۔وائس چانسلرجامعہ کشمیر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ یونیورسٹی میں طلباء /طالبات کے داخلہ جات اور ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف میں تقرریوں کے لیئے سیاسی دبائو بھی ہوتا ہے اور ناراضگیاں بھی بہت زیادہ ہو رہی ہیں لیکن یونیورسٹی ایڈمنسٹریشن نے صدر /چانسلر جامعہ اور وزیراعظم کی ہدایت اور یونیورسٹی قواعد و ضوابط کے عین مطابق میرٹ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے ان امور میں مکمل میرٹ کو فالو کر رکھا ہے۔

اس موقع پر وائس چانسلر نے وزیر اعظم کو ایکٹ 74میں ترمیم اور ریاستی حکومت کے اختیارات میں اضافہ اور وسعت پر مبارک باد پیش کی۔ڈائریکٹر اکیڈمکس پروفیسر ڈاکٹر اظہر سلیم جو اس پروگرام کے فوکل پرسن تھے،شرکاء کو بتایا کہ یونیورسٹی اس سے قبل فیز I تاIII میں 2757 فیزIV میں 625 طلباء /طالبات میں اس سکیم کے تحت لیپ ٹاپ تقسیم کر چکی ہے اور آج کی تعداد کو ملا کر کل 3382لیپ ٹاپ تقسیم ہوئے ہے۔

انہوں نے حکومت پاکستان اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا اس سکیم کے اجراء اور لیپ ٹاپ کی فراہمی پر شکریہ ادا کیا۔تقریب میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض شعبہ انگریزی کے لیکچرر عتیق الرحمن عباسی نے سرانجام دیے، تقریب میں ڈین فیکلٹی آف سائنسز پروفیسر ڈاکٹرمحمد قیوم خان،ڈین آرٹس پروفیسر ڈاکٹر عائشہ سہیل،ڈین ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر بشیرالرحمن کنٹھ، جسٹرار پروفیسر ڈاکٹرغلام مرتضیٰ، کنٹرولرامتحانات پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید، ڈائر یکٹر فنانس سید صابر بخاری،ڈائر یکٹر پلاننگ مجیب ظفر،ڈائر یکٹر شعبہ انگریزی ڈاکٹر عبدالقادر کے علاوہ سربراہان شعبہ جات، فیکلٹی ممبران ،انتظامی آفیسران اور طلبا و طالبات نے شرکت کی۔