تنازعہ کشمیرکی تاریخی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا

بھارتی مذاکرات کا ر دنیشور شرماکاکشمیریوں میں بھارت کے خلاف بڑھتی ہوئی بد اعتمادی کااعتراف

بدھ جون 16:09

نئی دلی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) جموںوکشمیر کے بارے میں بھارت کے مذاکرات کا ر دنیشور شرمانے کشمیری عوام میں بھارت کے خلاف پائے جانیوالے عدم اعتماد کا اعتراف کرتے ہوئے کہاہے کہ تنازعہ کشمیر ایک تاریخی حقیقت ہے اور کوئی بھی اس سے انکار نہیں کرسکتا۔ کشمیرمیڈیاسرو س کے مطابق دنیشور شرمانے ایک بھارتی روزنامہ کو انٹرویو میں کہاکہ جب انہوںنے کشمیری نوجوانوں سے گفتگو کی تھی تو انہوںنے جارحانہ طورپر کئی سوالات کئے اور بھارت سے آزادی کے بارے میں کہا۔

انٹرویو کے دوران دنیشورشرما نے کشمیر میں اپنے دورے کے حقائق کے بارے میں ایمانداری سے بیان نہیں کیا کیونکہ انہوںنے مسئلہ کشمیر کو اس کے تاریخی پس منظر اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے پر زوردینے کی بجائے بھارتی حکومت کوکشمیری عوام میں پائے جانے والی بداعتمادی کو دور کرنے کامشورہ دیا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ جب تک ہم کشمیری عوام میں پائی جانے والی بداعتمادی کو دور نہیں کرتے انہیںآزادی کا خیال آتا رہے گا۔

انہوںنے کہاکہ ہمیں کشمیری نوجوانوںکو یہ احساس دلانا ہو گا کہ وہ ہمارے بچے ہیں اور ہمیں ان کی فکر ہے۔ انہوںنے کہاکہ کشمیرمیں سب سے بڑا چیلنج کشمیری عوام خاص طورپر نوجوانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ کشمیری عوام سے ملاقات کے دوران انہوںنے انہیں تنازعہ کشمیر کے بارے میں متعدد تاریخی حقائق یاد لائے جن پر بات کی جانی چاہیے ۔ انہوںنے تسلیم کیا کہ ہر طرف سے غلطیاں ہوئی ہیں ۔تاہم انہوںنے کہاکہ ہمصرف تاریخ پر بات نہیں کرسکتے ہمیںآگے بڑھنا ہو گا۔