شبیر احمد شاہ کی غیر قانونی نظر بندی کو اوچھے ہتھکنڈوں سے طول دیا جا رہا ہے، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی

بدھ جون 16:11

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں جموںوکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے پارٹی چیئرمین شبیر احمد شاہ کی غیر قانونی نظر بندی کو اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے طول دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دلی کی خصوصی عدالت اس مذموم عمل میں بھارتی حکومت کی مدد کر رہی ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ تقریباً اڑھائی ماہ کے انتظار کے بعد منگل کے روز نئی دلی کی خصوصی عدالت میں شبیر احمد شاہ پر قائم جھوٹے مقدمے کی سماعت ہونا تھی لیکن کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد عدالت نے ان کے وکیل کو بتایا کہ جج کی تبدیلی ہوئی ہے اور نئے جج کی طرف سے فی الوقت کیس سٹیڈی کا عمل جار ی ہے لہذا مقدمے کی آئندہ سماعت 7اگست کو ہوگی۔

(جاری ہے)

پارٹی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ دلی کی خصوصی عدالت کے جج صاحبان یا تو چھٹی پر رہتے ہیں، یا اُنہیں ٹرانسفر کیا جاتا ہے یا پھر سرکاری وکیل غیر حاضر رہتا ہے اور یہ سلسلہ لگاتار اُس دن سے جاری ہے جب سے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے شبیر احمدشاہ کیخلاف ایک من گھڑت اوربے بنیاد مقدمے میں نام نہادچارچ شیٹ عدالت میں پیش کر دی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ شبیر احمد شاہ کئی عارضوں میں مبتلا ہیں اور اُن کے صحت انتہائی کمزور ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجود تہاڑ جیل انتظامہ اُنہیں مناسب علاج و معالجہ فراہم نہیں کر رہی جو انتہائی قابل مذمت کی۔

دریں اثنا ڈیموکریٹک پارٹی کے ترجمان نے شہید مدثر احمد اور شہید شیراز احمد کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہلخانہ کے ساتھ بھر پور اظہار یکجہتی کیا ۔ترجمان نے کہا کہ کشمیری اپنے پیدائشی حق، حق خود ارادیت کے لیے جد وجہد کر رہے ہیں جس پر بھارت انہیں بد ترین ریاستی دہشت گردی کا شنانہ بنا رہا ہے ۔ ترجمان نے اقوام متحدہ،،ایمنسٹی انٹرنیشنل،ہیومن رائٹس واچ،انٹر نیشنل ریڈ کراس اور دیگر بین الاقوامی حقوق کے اداروں سے اپیل کی وہ کشمیریوں کی نسل کشی روکنے کیلئے کردار ادا کریں۔ بھارتی فوجیوں نے کولگام اور پلوامہ اضلاع کے رہائشی نوجوانوں مدثر اور شیراز کو حال ہی میں ضلع کپواڑہ کے علاقے ٹنگڈار میں شہید کیا تھا۔