داعش‘ کے 150 جنگجو پھانسی کے لیے موصل سے بغداد منتقل

جنگجوؤں نے دوران تفتیش اور ٹرائل کے دوران دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا ، حکام

بدھ جون 16:11

بغداد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) عراقی حکام نے شورش زدہ شہر موصل سے گرفتار کئے گئے 150 داعشی جنگجوؤں کو سنائی گئی سزائے موت پرعمل درآمد کی تیاری مکمل کرلی ہے اور انہیں فنا کے گھاٹ اتارنے کے لیے موصل سے بغداد منتقل کر دیا گیا ہے۔نینویٰ کی پولیس نے بتایا کہ داعش تنظیم کے سزا یافتہ ڈیڑھ سو جنگجوؤں کو موصل سے بغداد لے جایا گیا ہے۔

عراقی پولیس کے ایک سیکیورٹی ذریعے نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ داعش کے 150 دہشت گردوں کو سخت ترین سیکیورٹی میں موصل سے بغداد منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سزا یافتہ داعشی جنگجوؤں نے دوران تفتیش اور مقدمات کے ٹرائل کے دوران عراق کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

(جاری ہے)

یہ تمام دہشت گرد کئی سال تک عراق میں شہریوں کے قتل عام، لوٹ مار، سیکیورٹی اداروں اور سرکاری املاک پر دہشت گردانہ حملوں اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں۔ادھر ایک دوسرے سیاق میں سوموار کی شام جنوب مغربی علاقے سامرائ میں ایک خود کش حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ گذشتہ برس داعش کی عراق میں شکست کے بعد یہ اب تک کا سب سے خطرناک خود کش حملہ تھا۔مقامی قبائلی رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ عراق کے بعض شہروں بالخصوص صلاح الدین، دیالی، کرکوک اور دیگر میں داعش کے جنگجو موجود ہیں اورانہیں مقامی آبادی کی طرف سے تحفظ بھی مل رہا ہے۔ داعش کے روپوش دہشت گردوں میں مقامی لوگوں کے بیٹے بھی شامل ہیں۔