بشار الاسد کے 45 فوجی داعش کے حملے میں لقمہ اجل بن گئے

بدھ جون 16:11

بیروت(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) دریائے فرات کے مغربی کنارے میں ’داعش‘ کے حملے میں کم سے کم 45 شا می فوجی ہلاک ہو گئے۔شام میں انسانی حقوق کی صورتحال مانیٹر کرنے والی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ داعش کے جنگجوؤں نے دریائے فرات کے مغربی کنارے سرکاری فوج کے زیر کنٹرول علاقوں میں گھس کر حملہ کیا جس میں کم سے کم 45 شامی فوجی ہلاک ہو گئے۔

اس علاقے میں جاری جھڑپوں میں شامی فوج کا یہ سب سے بڑا جانی نقصان ہے جب کہ دوسر طرف شام اور دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے 26 داعشی شدت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔رامی عبدالرحمان کے مطابق دریائے فرات کے مغربی کنارے پر داعش کے جنگجوؤں سے لڑنے والے اسدی فوجیوں کے ساتھ ایران،، عراق،، لبنانی حزب اللہ اور افغانستان کی شیعہ ملیشیاؤں کے عناصر بھی شامل ہیں۔

(جاری ہے)

انسانی حقوق کے مندوب کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں روسی فوج کی طرف سے اپنے حلیف بشارالاسد کی وفادار فورسز کو فضائی معاونت یا تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔خیال رہے کہ دریائے فرات کے مغربی کنارے کے چار اہم علاقے جن پر شامی فوج کا کنٹرول ہے میں داعش اور سرکاری فوج کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری رہی ہے۔ ان میں الرمادی، الجلائ ، دیر الزور میں بوکمال شہر شامل ہیں۔داعشی جنگجوؤں کی حالیہ عرصے کے دوران تاریخی شہر تدمر اور البوکمال میں غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں اور جنگجوؤں نے سرکاری فوج کو حملوں میں غیر معمولی جانی اور مالی نقصان سے بھی دوچار کیا ہے۔