بیت المقدس؛اسرائیلوں کا ایک اور مسلم دشمنی وار،سحری جگانے والے رضاکاروں کو گرفتاریوں اور جرمانے کا سامنا

بدھ جون 16:33

مقبوضہ بیت المقدس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) اسرائیل کے زیر انتظام مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں ماہ رمضان المبارک کے دوران روزہ رکھنے والے مسلمانوں کو سحری کے لیے مختلف طریقوں سے جگانے والے رضاکاروں کو گرفتاریوں اور بھاری جرمانے کا سامنا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سحری کے لیے مسلمانوں کو آواز لگا کر اور ڈھول بجا کر جگانے کا روایتی طریقہ اختیار کرنے والے افراد کو اسرائیلی فورسز نے گرفتار کرنے اور ان پر جرمانے عائد کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے،سحری کے لیے جگانے والے رضاکاروں کو ’مساحراتی‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے جو قدیم شہر میں صبح صادق سے قبل تقریباًً 2 بجے مسلمانوں کو جگانے کے لیے ’سحور‘ کی آواز بلند کرتے ہیں،جس کے باعث مسلمان نیند سے بیدار ہوتے ہیں اور رمضان میں صبح صادق سے قبل سحری کھا کر روزہ رکھتے ہیں جبکہ دن بھر بھوک اور پیاس برداشت کرتے ہوئے مغرب کی آذان کیساتھ ہی روزہ افطار کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

رضاکاروں کا کہنا تھا کہ انہیں گرفتاریوں اور جرمانے کا سامنا ہے۔اسرائیلی فورسز کے مطابق کچھ شہریوں نے شکایت کی کہ انہیں رضاکاروں کی آواز کے باعث پریشانی کا سامنا ہے، تاہم رضاکاروں نے ان دعوؤں کا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا عمل فلسطین کا ورثہ ہے۔’یقیناًً یہ شکایت یہودی آباد کاروں کی جانب سے کی گئی ہوگی‘۔خیال رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس یا یروشلم میں مسلمان، یہودی، مسیحی سمیت دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی بڑی تعداد آباد ہے جبکہ یہاں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان ریاست کے قیام کے حوالے سے تنازع بھی جاری ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں مذکورہ علاقے کی مسلم آبادیوں میں یہودی آبادکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس نے دونوں قوموں کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔سحری کے لیے شہریوں کو جگانے والے رضاکار کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل انہیں صرف پولیس پریشان کیا کرتی تھی لیکن رواں سال رمضان المبارک میں انہیں 4 مرتبہ گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک مرتبہ تو اسرائیل کی پیرا ملٹری بارڈر پولیس نے ان پر اور دیگر رضاکاروں پر آنسو گیس کے شیل بھی پھینکیں، انہیں پہلی مرتبہ گرفتار کیا گیا تو ان پر 125 امریکی ڈالر جرمانہ کیا گیا اور ہر مرتبہ اس میں اضافہ کیا جاتا رہا۔دوسری جانب اسرائیلی پولیس کے ترجمان مکی روز فیلڈ کا کہنا تھا کہ پولیس نے صرف شکایات پر کارروائی کی۔

انہوں ںے مزید کہا کہ ’پرانے شہر کے رہائشیوں کی جانب سے شور کی شکایت کے بعد پولیس نے جرم کو روکنے کے لیے کارروائی کی‘۔ترجمان نے رضاکاروں پر آنسو گیس پھینکنے کے حوالے سے کیے جانے والے دعوؤں کی تردید کی اور یہ بھی نہیں بتایا کہ شکایت کرنے والے مسلمان اور مسیحی تھے یا یہودی ۔ادھر رضاکاروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گرفتاریوں اور جرمانوں کے باوجود وہ سحری کے لیے مسلمانوں کو جگانے کی قدیم روایت جاری رکھیں گے۔