نئی حلقہ بندیوں کے بعد یوں تو بہت ساری نشستوں کے خدوخال بدل گئے لیکن کراچی کے مشہور این اے246 کی اہمیت میں کمی نہ آئی

عزیز آباد اور اطراف کے علاقوں پر مشتمل یہ حلقہ 2002سے 2013کے انتخابات تک ایم کیو ایم کا گڑھ رہا ،نئی حلقہ بندی کے بعد این اے 246لیاری کو قرار دیا گیا

بدھ جون 16:43

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) نئی حلقہ بندیوں کے بعد یوں تو بہت ساری نشستوں کے خدوخال بدل گئے لیکن کراچی کے مشہور این ای246 کی اہمیت میں کمی نہ آئی۔ یہ حلقہ کبھی متحدہ قومی موومنٹ کا گڑھ ہواکرتا تھا لیکن اب پیپلزپارٹی کا مضبوط قلعہ ہے۔۔کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ 246کو مقبول ترین حلقہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا،عزیز آباد اور اطراف کے علاقوں پر مشتمل یہ حلقہ 2002سے 2013کے انتخابات تک ایم کیو ایم کا گڑھ رہا لیکن نئی حلقہ بندی کے بعد 2018 کے انتخابات میں اس حلقے کی نوعیت تبدیل ہوچکی اور اب این اے 246لیاری کو قرار دیا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کراچی میں عزیز آباد ایم کیو ایم جبکہ لیاری پیپلزپارٹی کی سیاسی طاقت کی علامت کے طور پر مشہور ہے۔ یوں اس حلقے کی نوعیت تو بدل گئی مگر اہمیت اسی طرح برقرار ہے۔

(جاری ہے)

این اے 246کو ضمنی انتخاب سے عروج ملا ،پی پی سے ہجرت کرکے متحدہ آنے والے نبیل گبول دوبارہ اپنے سیاسی قبلہ اول کی طرف لوٹ گئے تو عزیزآباد کی نشست پر نیا معرکے کا آغاز ہوا۔

پی ٹی آئی نے متحدہ کے گڑھ میں عمران اسماعیل کو اتارا جبکہ پتنگ کے نشان پر کنور نوید جمیل لڑے، مقابلے میں بلے کو شکست ہوئی لیکن این اے 246قومی سیاست میں توجہ کا مرکز بن گیا۔تازہ حلقہ بندیوں سے بہت کچھ تبدیل ہوا لیکن این اے 246کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی،یہ نشست ایک گھر سے دوسرے گھر چلی گئی، آج این اے 246پیپلزپارٹی کا گڑھ لیار ی ہی جہاں سے عام انتخابات میں چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا نام گردش میں ہے، یوں ایک بار پھراین اے 246 کا خبروں میں خوب چرچا ہوگا۔