سپریم کورٹ نے آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں امیدواروں کیلئے بیان حلفی کو لازمی قرار دیدیا

جس میں تمام معلومات درج ہوں گی جو اس کے اثاثوں اور غیر ملکی شہریت سے بارے میں ہو گی ووٹرز کو آنکھوں پر پٹی باندھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ،ْامیدواروں نے حقائق چھپائے تو توہین عدالت کی کارروائی ہو گی ،ْ سپریم کورٹ عوام کو امیدواروں کی معلومات دینے میں شرمندہ کیوں ہیں اسپیکر کیوں شرما رہے ہیں کہ عوام کو اپنے نمائندوں کی معلومات نہ ہوں ،ْچیف جسٹس

بدھ جون 16:43

سپریم کورٹ نے آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں امیدواروں کیلئے ..
ْ اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) سپریم کورٹ نے آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں امیدواروں کیلئے بیان حلفی کو لازمی قرار دیا ہے جس میں وہ تمام معلومات درج ہوں گی جو اس کے اثاثوں اور غیر ملکی شہریت سے بارے میں ہو گی۔بدھ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کے کاغذات نامزدگی سے متعلق فیصلے پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹ میں وفاق نے 7 ماہ تک معاملے کو التوا دیا، عدالت عظمیٰ اس حوالے سے 2011 میں فیصلہ دے چکی ہے۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگ عوام کو امیدواروں کی معلومات دینے میں شرمندہ کیوں ہیں اسپیکر کیوں شرما رہے ہیں کہ عوام کو اپنے نمائندوں کی معلومات نہ ہوں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ایاز صادق کوئی معلومات چھپانا چاہتے ہیں اس پر ان کے وکیل نے بتایا کہ ایاز صادق کچھ چھپانا نہیں چاہتے، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کچھ چھپانا نہیں تو جھگڑا کس بات کا ہی جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم ہائیکورٹ کے فیصلے کو اپنی وجوہات کیساتھ برقرار بھی رکھ سکتے ہیں، دیکھناچاہتے ہیں کہ اسپیکراسمبلی کون سی معلومات دینے میں شرما رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدالتی حکم کو چیلنج کرنے کا اسپیکر کا کیا استحقاق ہی آرٹیکل 218 کے تحت انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، کاغذات نامزدگی کا معاملہ بھی آرٹیکل 218 میں آتا ہے۔۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کے اختیارات کو کیوں کم کر رہے ہیں ہم ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہیں۔۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ امیدواران بیان حلفی کے ساتھ اضافی معلومات کمیشن کو فراہم کریں ،ْ انہوں نے الیکشن کمیشن کو بھی بیان حلفی کا متن ایک گھنٹے میں تیار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کاغذات نامزدگی الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت فارم بنایا گیا تھا، پاکستان کے عوام کو انتخابات لڑنے والے کے بارے میں جانے کا حق ہے اور الیکشن کمیشن کو اختیار حاصل ہے وہ مناسب معلومات طلب کرسکتا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جو کاغذات نامزدگی موجودہ ہے اس کے ساتھ ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ امیدوار کو کاغذات جمع کرانے کے بعد تین دن کیا ندر ایک بیان حلفی پر وہ معلومات جو الیکشن کمیشن ضروری لینا چاہتا ہے اسے دینا ہوں گی۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ تمام معلومات مکمل انصاف کیلئے مانگ رہے ہیں، بیان حلفی ریٹرننگ افسران کے سامنے ہوگا، یہ بیان حلفی ایسا ہوگا جیسے سپریم کورٹ کے سامنے دیا جارہا ہے ،ْاگر اس میں کوئی بھی غلط اطلاع دی گئی تو براہ راست سپریم کورٹ ایسی شخصیت کیخلاف اقدام کرسکے گی، عدالت 184 کے تحت اختیار استعمال کرسکتی ہے۔۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ نئے فارم کی ضرورت نہیں، کمیش بیان حلفی بناکر لائے گا اور اسے عدالتی حکم کا حصہ بنائیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کی حتمی تاریخ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس بیان حلفی میں امیدوار کی طرف سے کوئی حقائق چھپائے گئے تو ایسا تسلیم کیا جائے گا کہ یہ حقائق سپریم کورٹ سے چھپائے گئے ہیں اور ایسا کرنے والے کے خلاف توہین عدالت سمیت دیگر قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ووٹرز کو آنکھوں پر پٹی باندھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دیا جانے والا حکم امتناعی واپس بھی لے سکتی ہے پھر چاہے میڈیا پر یہ خبر ہیڈ لائن کے طور پر لی جائے۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ عام انتخابات شفاف ہوں گے اور ایک اچھی قیادت ملک کو میسر ہو گی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے الیکشن کمیشن پاکستان کو بیان حلفی اور اس کا متن تیار کرنے کا حکم دے دیتے ہوئے اسے ایک روز میں مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔سیکرٹری الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی مقررہ تاریخ ختم ہونے میں 3 دن باقی ہیں جس پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ بیانِ حلفی تیار ہونے کے بعد تمام امید وار تین روز کے اند انہیں الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔