مقبوضہ کشمیر میں شہداء پاکستان کے پرچم میں دفن ہو رہے ہیں‘ حریت قیادت ‘حریت پسند عوام لازوال قربانیوں کی داستانیں رقم کر رہے ہیں ‘جب کہ ایسے موقعہ پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا سیاسی خود کشی اور ہندوستان کی مدد کرنے کے مترادف ہے‘ ریاست جموںو کشمیر متنازعہ علاقہ اور ناقابل تقسیم وحدت ہے

آل جموںوکشمیر مسلم کانفرنس کی سیکرٹری جنرل و سابق ڈپٹی سپیکر مہرالنساء کی بات چیت

بدھ جون 16:46

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) آل جموںوکشمیر مسلم کانفرنس کی سیکرٹری جنرل و سابق ڈپٹی سپیکر مہرالنساء نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں شہداء پاکستان کے پرچم میں دفن ہو رہے ہیں۔ حریت قیادت اورحریت پسند عوام لازوال قربانیوں کی داستانیں رقم کر رہے ہیں جب کہ ایسے موقعہ پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا سیاسی خود کشی اور ہندوستان کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔

ریاست جموںو کشمیر متنازعہ علاقہ اور ناقابل تقسیم وحدت ہے۔ تقسیم کشمیر کسی صورت قبول نہیں۔ حکومت کی طرف سے عجلت میں کی گئی ترامیم کا خمیازہ قوم کو دیر تک بھگتنا پڑے گا۔ مسلم کانفرنس بہت جلد عجلت میں کی جانے والی ترامیم سے آزاد کشمیر کو ہونے والے نقصان سے عوام الناس اور سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے اکابرین کو آگاہ کرے گی۔

(جاری ہے)

آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کی کوششیں پاکستان کے دفاعی نظام کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔

ملک کے پالیسی ساز ادارے اس کا نوٹس لیں۔ انھوںنے ان خیالات کا اظہار حکومت آزاد کشمیر کی طرف سے 13 ویںآئینی ترامیم پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کیا۔ محترمہ مہرالنساء نے کہا کہ آزادکشمیر اسمبلی نے عجلت میں جو بل پاس کیا ہے 1964 ء میں بھارتی کانگریس نے غلام محمد صادق کی قیادت میں بالکل ایسی ہی قرارداد پاس کی۔ جس کے فوراً بعد مقبوضہ کشمیر کو حاصل اندرونی خودمختاری ختم کر دی گئی۔

وزیر اعظم کو چیف منسٹر اور صدر ریاست کو گورنر میں تبدیل کر دیا کیا گیا اور ہندوستان نے اٹوٹ انگ کا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ انھوںنے کہاکہ کشمیر کونسل کو ناکاراہ کرنے کے بجائے وہ اصلاحات کرنا تھیں جو آزاد کشمیر کی تمام سیاسی ، دینی جماعتوں ، وکلا برادری اور زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے صاحب بصیرت لوگوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران اس وقت کے وزیر حکومت مطلوب انقلابی کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے تیار کئے تھے۔

مہرالنساء نے کہا کہ وفاق میں ن لیگ کی حکومت کے آخری دن ، رات کے آخری پہر نہایت جلدبازی میں کئے گئے یہ فیصلے نہ تو پاکستان کے لئے فائدہ مندہ ثابت ہو سکتے ہیں اور نہ ہی کشمیریوں کے لئے ۔تحریک آزادی کے اس نازک ترین موڑ پر آزاد خطہ کسی سیاسی افراتفریح کا متعمل نہیں ہو سکتا ہے۔ انھوںنے کہا کہ ملکی سالمیت کے اداروںکو اس حساس نوعیت کے یکطرفہ فیصلے کا نوٹس لینا چاہئے۔ تحریک آزادی کشمیر اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔