سپریم کورٹ:نگراں وزیراعلیٰ سےعدالت کی گاڑی واپس لینےکا حکم

پشاوررجسٹری میں سرکاری گاڑیوں سےمتعلق کیس کی سماعت، اب وہ جج نہیں بلکہ سیاسی سیٹ پرکام کررہے ہیں،اب پتا چلا کیوں فل کورٹ ریفرنس نہیں لے رہے تھے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ کے ریمارکس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ جون 16:17

سپریم کورٹ:نگراں وزیراعلیٰ سےعدالت کی گاڑی واپس لینےکا حکم
پشاور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔06 جون 2018ء) : سپریم کورٹ نے نگراں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے عدالت کی گاڑی واپس لینے کا حکم دے دیا،اب وہ جج نہیں بلکہ سیاسی سیٹ پرکام کررہے ہیں،اب پتا چلا کیوں فل کورٹ ریفرنس نہیں لے رہے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں سرکاری گاڑیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے کی۔

اس موقع پرعدالت نے صوبے کے تمام غیرمتعلقہ افراد سے گاڑیاں واپس لینے کے احکامات جاری کردیے۔ سپریم کورٹ نے نگراں وزیراعلیٰ سے سپریم کورٹ کی گاڑی واپس لینے کا حکم دے دیا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ اب وہ جج نہیں بلکہ سیاسی سیٹ پرکام کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اب پتا چلا کیوں فل کورٹ ریفرنس نہیں لے رہے تھے۔ اس سے قبل چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں اصغر خان کیس اور لاہورہائیکورٹ کے نامزدگی فارم کےفیصلے کیخلاف سردار ایازصادق کی اپیل پرکیس کی سماعت کی۔

عدالت نے انتخابی امیدواروں کیلئے بیان حلفی ضروری قراردیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ بیان حلفی کا متن آج ہی سپریم کورٹ میں جمع کروایا جائے۔۔سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا تفصیلی حکم نامہ پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جن لوگوں نے قوم کو مصیبت میں ڈالا وہ کمرہ عدالت میں موجود ہیں امیدواران جو معلومات رہتی ہیں وہ بیان حلفی کے ساتھ الیکشن کمیشن کو دیں۔

وکیل ایاز صادق نے بتایا کہ کاغذات نامزدگی میں ایسی معلومات پوچھی گئیں جو لازمی نہیں تھیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ امیدوار ریٹرننگ افسران کو تمام معلومات فراہم کریں پاکستان کے لوگوں کو اپنے امیدواروں کی ساکھ کا پتہ ہو۔ سپیکر کیوں شرما رہے ہیں کہ عوام کو اپنے نمائندوں کی معلومات نہ ہوں کیوں نہ حکم امتناع واپس لیں اور خبر بنتی ہے تو بننے دیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ایاز صادق کوئی معلومات چھپانا چاہتے ہیں وکیل شاہد حامد نے بتایا کہ ایاز صادق کچھ چھپانا نہیں چاہتے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر کچھ چھپانا نہیں تو جھگڑا کس بات کا ہی وکیل ایاز صادق نے بتایا کہ پارلیمنٹ نے قانون پاس کیا اور سینٹ الیکشن بھی اس قانون پر ہوا پارلیمنٹ سے منظور کردہ قانون ملکی قانون بن چکا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کو اپنی وجوہات کے ساتھ برقرار بھی رکھ سکتے ہیں یہ بات حتمی ہے الیکشن موخر نہیں ہوں گے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ الیکشن التواء میں نہیں جائیں گے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن پاکستان نے بیان حلفی کا متن تیارکرنے کیلئے مشاورت شروع کردی ہے۔۔الیکشن کمیشن کا رات 12بجے تک بیان حلفی تیار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے قانونی ماہرین کوٹاسک دے دیا۔۔الیکشن کمیشن کے مطابق اب بیان حلفی میں وہ تمام معلومات شامل ہوں گی جو نئے فارم میں نہیں۔امیدوار کودہری شہریت اور ٹیکس سے متعلق معلومات بھی دینا ہوں گی۔بتانا ہوگا کہ امیدوار بینک یا مالیاتی ادارے کا نادہندہ تو نہیں ہے۔بیان حلفی کے متن میں ذاتی معلومات بھی شامل کی جائیں گی۔اسی طرح بیان حلفی میں اقامے،بیرون ملک دوروں اور مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کے ساتھ تعلیم اور پیشہ بھی بیان حلفی کا حصہ ہوں گے۔پیسہ نہ دے کر ٹکٹ لینے کا بھی پیراگراف شامل ہے۔امیدوار آرٹیکل 62،63پر پورا اترنے کا حلف نامہ بھی دے گا۔