بھارت کشمیریوں کی پر امن جدوجہد کو طاقت کے بل پر دبانے کی مذموم پالیسی پر بدستور عمل پیرا ہے، سید علی گیلانی

حریت رہنماء کی انسانی حقوق کے اداروں سے بھارتی مظالم کا نوٹس لینے کی اپیل

بدھ جون 16:47

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے نہتے کشمیریوں پر قابض بھارتی فورسز کے بڑھتے ہوئے مظالم پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت کشمیریوں کی پر امن جدوجہد کو طاقت کے بل پر دبانے کی مذموم پالیسی پر بدستور عمل پیرا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ضلع شوپیاں سے تعلق رکھنے والے ایک عوامی وفد نے سید علی گیلانی کے ساتھ سرینگر میں انکی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران انہیں قابض فورسز کے جبر وا ستبداد سے آگاہ کیا۔

وفد سے ملاقات کے بعد سید علی گیلانی نے اپنے ایک بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ ، عالمی ریڈ کراس اور انسانی حقوق کی دیگر عالمی تنظیموں کی توجہ بھارتی مظالم کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نوجوانوں کو شہید کرنے کے بعد ان کے جسد خاکی لواحقین کے حوالے نہیں کرتی ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ ضلع کپواڑہ کے علاقے ٹنگڈار میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ اسکی تازہ مثال ہے ۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ شہید نوجوانوں کے اہلخانہ اپنے پیاروں کی میتیں حوالے کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن اس مطالبے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ سید علی گیلانی نے غیر قانونی قانونی طور پر ظر بند کشمیریوں کے ساتھ روا رکھنے جانے والے بہیمانہ سلوک پر بھی سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سینئر حریت رہنما مسرت عالم بٹ پر 36 ویںمرتبہ کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کیا گیا اور عدالتوں کی طرف سے رہائی کے احکامات کے بعد انہیں فوری طور پر دوبارہ گرفتار کیا جاتا ہے۔

سید علی گیلانی نے تحریک حریت جموںوکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی کی گھر میں مسلسل نظربندی اور دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور انکی ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کی غیر قانونی کو اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے طول دینے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حق خود ارادیت کشمیریوںکا پیدائشی حق ہے اور بھارت کے پاس اس جائز مطالبے کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی اورآپشن موجود نہیں۔