خوردنی تیل کی پیداوار میں اضافہ وقت کا تقاضا ہے،زرعی ماہرین

بدھ جون 16:49

سلانوالی۔6 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ خوردنی تیل کی پیداوار میں اضافہ وقت کا تقاضا ہے، پاکستا ن میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آباد ی کی وجہ سے وسائل پر دبائو مسلسل بڑھ ر ہا ہے، ا س صورتحال کے پیش نظر مستقبل میں زرعی پیداوار میں اضافہ اور غذائی خود کفالت کیلئے موثر منصوبہ بندی اورسنجید ہ کو ششوں کی ضرورت ہے ، ماہرین نے کہا کہ گذشتہ چندسالوںمیں گندم چا و ل اور گنے کے علاو ہ کپا س کی پیداوار میں بھی خاطرخوا ہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن تیل دا ر اجنا س کی پیداوار کم ہے جس میں اضافہ کیلئے موثر منصوبہ بندی وقت کا تقاضا ہے ،ا س وقت پاکستان میں ملکی ضروریات کا صرف 34فیصد خوردنی تیل پیداہورہا ہے جبکہ 66فیصددرآمدکرنا پڑتا ہے جس پر ہرسا ل کثیر زرمباد لہ خرچ ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تیل دا ر فصلا ت کی کا شت کو فروغ دیا جا ئے تا کہ خوردنی تیل کی درآمد پر انحصار کم ہو ،،پاکستان میں خوردنی تیل کے حصول کیلئے سرسوں توریا رایا کینولا ٹل مونگ پھلی السی تا ر ہ میرا مکئی سور ج مکھی سویا بین اور کسنبہ کی فصلیں کا شت کی جاتی ہے ان کی فی ایکڑ پیداوار دیگر ممالک مقابلے میں کم ہے ،ماہرین کے مطابق بہتر پیداوار حکمت عملی اورترقی دادہ اقسام کی کا شت کوفروغ د ے کر موجود ہ زیر کا شت رقبے سے ہی تیل دار اجنا س کی دوگنی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے، پنجاب میں دوسری فصلات کی طرح سور ج مکھی بھی کا میابی سے کا شت ہوسکتی ہے ، ا س وقت ملک میں خوردنی تیل کا 35فیصد سور ج مکھی سے حاصل ہوتا ہے اس لیے ا س کی کا شت کو فروغ دے کر خوردنی تیل کی پیداوار قابل لحاظ اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔