مودی حکومت مسلمانوں کو چن چن کر مار رہی ہے،بھارتی مصنفہ

بھارت میں کچھ بھی ٹھیک نہیں،تمام اہم اداروں پر مودی کاقبضہ ،تعلیمی کتابوںپر ہٹلر کو دنیا کے عظیم رہنماؤں کے ساتھ رکھا جا رہا ہے،انٹرویو

بدھ جون 17:29

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) بھارت کی معروف اور ایوارڈ یافتہ مصنفہ اروندھتی رائے نے بھارت میں مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اٴْن کے دورِ اقتدار میں مسلم کیمونٹی کو الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔برطانوی ٹی وی کو دیئے گئے ایک نٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں اروندھتی رائے نے کہا کہ اگر آج ہندوستان کی صورت حال دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ مسلم کمیونٹی کو الگ تھلگ کیا جا رہا ہے۔

سڑکوں پر لوگوں کو گھیر کر مارا جا رہا ہے۔انھوں نے مزید کہاکہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کو اقتصادی سرگرمیوں سے الگ کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے وہ اپنے گزر بسر کے لیے ان (ملکی) اقتصادی سرگرمیوں میں براہ راست شامل تھے۔ آپ کو علم ہے کہ گوشت کے کاروبار،، چمڑے کے کاروبار اور ہاتھ سے کپڑا بنائے جانے والی تمام صنعتوں پر حملے کیے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ ان صنعتوں میں مسلمانوں کی شمولیت سب سے زیادہ تھی۔اروندھتی رائے نے کہاکہ انڈیا میں تشدد کے واقعات خوفزدہ کرنے والے ہیں۔ کشمیر میں ایک نابالغ بچی کے ساتھ ریپ ہوا۔ ریپ پہلے بھی ہوئے ہیں لیکن اس معاملے میں ہزاروں لوگوں نے ریپ کے ملزمان کی حمایت میں ریلیاں نکالی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ان (ریلیوں) میں خواتین بھی شامل تھیں۔ اس طرح ریپ کی تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوششیں کی گئی۔

پولرائیزیشن خوفناک طور پر جاری ہے۔جب اٴْن سے پوچھا گیا کہ آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ انڈین وزیر اعظم مودی امریکی صدر ٹرمپ یا دیگر قوم پرست رہنماؤں سے بھی بدتر ہیں اس سوال کے جواب میں اروندھتی رائے نے کہاکہ دیکھیے، دونوں کے درمیان فرق ہے۔ ٹرمپ بے قابو ہیں۔ اور امریکہ کے تمام ادارے ان سے ان کے بارے میں پریشان ہیں۔ میڈیا پریشان ہے عدلیہ متفق نہیں ہے، فوج بھی حمایت نہیں کر رہی ہے اور وہاں کے لوگ ٹرمپ کو منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

روندھتی رائے نے مزید کہاکہ دوسری طرف انڈیا میں تمام اہم اداروں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ سکول کے نصاب کی کتاب کے سر ورق پر ہٹلر کو دنیا کے عظیم رہنماؤں کے ساتھ رکھا جا رہا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ حالات ایسے ہیں کہ انڈیا کی سپریم کورٹ کے چار ججوں کو میڈیا کے سامنے آنا پڑا۔ ایسا انڈیا میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ان ججوں نے ایک پریس کانفرنس منعقد کی اور کہا کہ جمہوریت خطرے میں ہے۔ ججوں نے عدالتی کارروائیوں کی غیر جانبداری پر سوال اٹھایا اور کہا کہ وہ فکس ہیں۔