گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوجیوں کے آپریشن بلیو اسٹار کو 34 سال مکمل،خالصتان کے نعروں کی گونج

گولڈن ٹیمپل میں موجود ہزاروں کی تعداد میں جمع سکھوں نے خالصتان کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بلند کیے

بدھ جون 17:29

امرتسر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوجیوں کے آپریشن بلیو اسٹار کو 34 برس مکمل ہونے پر منعقد یاد گاری تقریب علیحدہ صوبے خالصتان کے نعروں سے گونج اٹھی۔واضح رہے کہ بھارت کے شمالی شہر امرتسر میں جون 1984 میں علیحدگی پسند سکھوں کو گولڈ ن ٹیمپل سے نکالنے کے لیے فوجی آپریشن بلیو اسٹار کیا گیا تھا جس میں تقریباً 500 سکھوں کو قتل کردیا گیا۔

تاریخی اوراق میں واضح ہے کہ سکھوں کے خلاف حکومت اور فوج کی کارروائیوں کے بعد اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کو اپنے ہی ایک سکھ گارڈ نے قتل کردیا تھا جس کے بعد بدترین فسادات پھوٹ پڑے اور صرف دہلی میں ہی 3 ہزار سکھوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جبکہ سکھوں کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 4 سے زائد ہے۔

(جاری ہے)

بھارتی ٹی وی کے مطابق آپریشن بلیو اسٹار کی برسی پر بھارتی حکومت نے پیراملٹری فورس اور پنجاب پولیس کے ہزاروں اہلکاروں کو تعینات کرکے پورے شہر کو قلعہ میں بدل ڈالا۔

دوسری جانب حکومت نے امرتسر سمیت دیگر ریاستوں میں سکھوں کے مذہبی مقامات پر سخت سیکیورٹی کے انتظام کیے۔سیکیورٹی اہلکار گاڑیوں کی تلاشی اور پیدل چلنے والوں کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے تا کہ کوئی خالصتان کے حق میں پیش قدمی نہ کر سکے۔برسی کے موقع پر دل خالصہ اور سکھ یوتھ فیڈریشن نے خالصتان تحریک کے مقتولین کو خراج تحسین پیش کی اور خالصتان کے حق میں نعرے لگائے۔

احتجاج کے شرکاء نے خالصتان کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھے جس میں علیحدگی پسند جرنیل سینگ بھندوالے،آل انڈیا سکھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق صدر امیرک سنگھ اور ریٹائرڈ میجر جنرل شبیگ سنگھ کو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے آپریشن بیلو اسٹار کے خلاف گولڈ ٹیمپل میں مورچہ بندی کرکے بھارتی فوجیوں کو روکے رکھا۔دوسری جانب گولڈن ٹیمپل میں سکھوں کے دو گروپوں کے مابین معمولی تصادم کی بھی خبریں منظر عام پر آئیں جن میں بتایا گیا کہ آپریشن بلیو اسٹار کی برسی کے دوران علیحدگی پسند سکھوں کے ایک گروپ نے آزاد وطن کے حق میں نعرے لگانا شروع کردیئے جس کے بعد سیکیورٹی حکام نے انہیں ٹیمپل سے نکال دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سکھوں نے کرپانے نکال کر ایک دوسرے پر حملے کیے جس میں 6 سکھ زخمی ہوئے۔گولڈن ٹیمپل میں موجود ہزاروں کی تعداد میں جمع سکھوں نے خالصتان کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بلند کیے۔