دُبئی کے شاپنگ سنٹر میں آگ کی زدمیں آئے شخص کی ویڈیو جعلسازی قرار

پولیس کے مطابق دُبئی میں کہیں بھی ایسا واقعہ رُونما نہیں ہوا

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ جون 17:14

دُبئی کے شاپنگ سنٹر میں آگ کی زدمیں آئے شخص کی ویڈیو جعلسازی قرار
دوبئی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 6 جُون 2018ء) سوشل میڈیا پر دوبئی شاپنگ مال میں ایک آدمی کے آگ کے باعث جھُلسنے کی ویڈیو نے کھلبلی مچا دی۔ لاکھوں لوگ اب تک اس ویڈیو کو دیکھ اور شیئر کر چکے ہیں۔ 48 سیکنڈز پر محیط اس تازہ تازہ وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک آدمی دوبئی کے شاپنگ مال میں خریداری کی غرض سے موجود ہے۔ اچانک اُس کی جیب میں رکھا موبائل فون چارجر دھماکے سے پھٹ جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس دھماکے کے باعث آدمی کے پُورے جسم کو آگ لگ جاتی ہے۔

موقع پر موجود عام افراد اور سٹاف ممبران پُوری کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں کہ آتش زدگی کے باعث جھُلسنے والے شخص کو لگی آگ بُجھا دی جائے۔ اس ویڈیو کو بہت تھوڑے وقت میں لاکھوں افراد نے دیکھ لیا ہے۔

(جاری ہے)

مگر دوبئی پولیس کی جانب سے بیان سامنے آیا ہے کہ یہ ویڈیو سو فیصد جعلی ہے۔ اس نوعیت کا کوئی واقعہ دوبئی کے کسی بھی شاپنگ مال میں رُونما نہیں ہوا۔

مقامی شہری دفاع کے محکمے کے ترجمان نے بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ دُبئی کے کسی شاپنگ مال میں اس نوعیت کا افسوس ناک واقعہ رُونما ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ دُبئی پولیس کے کریمنل انویسٹی گیشن شعبے کے اسسٹنٹ کمانڈر انچیف میجر جنرل خلیل ابراہیم المنصوری نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی اس قسم کی کسی غیر مصدقہ ویڈیوز پر یقین نہ کریں۔

ان ویڈیوز کا مقصد عوام کو بے وقوف بنانا اور اُن میں خوف و ہراس پھیلانا ہوتا ہے۔ المنصوری نے مزید کہا کہ اس قسم کی جعلی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والوں پر افواہ سازی اور جھوٹی خبریں پھیلانے کے جُرم میں تین سال تک قید کی سزا سُنائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈھائی لاکھ اماراتی درہم کا جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے۔