چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے فاٹا اور پاٹا کی بزنس کمیونٹی کے وفد کی ملاقات

آئینی ترمیم سے فاٹا اور پاٹا کی تجارت اور بزنس کمیونٹی کو ممکنہ طور پرپیش آنیوالے مسائل اوراقتصادی رابطہ کونسل کی سفارشات پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس جلد طلب کیا جائے گا تاکہ تمام سٹیک ہولڈر زکیساتھ مشاورت کے ذریعے ایسی سفارشات مرتب کی جائیں جن سے فاٹا اور پاٹا میں لاگو ہونے والے ٹیکسوں کے لیے ایک مناسب لائحہ عمل اور نظام وضع کیا جاسکے، چیئرمین سینیٹ کی یقین دہانی

بدھ جون 17:39

چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے فاٹا اور پاٹا کی بزنس کمیونٹی کے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے فاٹا اور پاٹا کی بزنس کمیونٹی کی ایک وفد نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی اور حال ہی میں پارلیمان سے منظور ہونے والی آئینی ترمیم سے فاٹا اور پاٹا کی تجارت اور بزنس کمیونٹی کو ممکنہ طور پرپیش آنیوالے مسائل اوراقتصادی رابطہ کونسل کی سفارشات پر اپنے تحفظات سے تفصیلی طورپر آگاہ کیا۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق بزنس کمیونٹی کے وفد نے چیئرمین سینیٹ کو بتایا کہ فاٹا میں دہشتگردی اور انتہاپسندی کے باعث تباہی سب کے سامنے ہے ، وہاں نہ تو لوگوں کا گھر بار بچا ہے اور نہ ہی کاروبار ۔ آئین میں جو ترمیم لائی گئی اس کے تحت آرٹیکل 247کی شق (3)ختم ہونے سے ٹیکسوں کے نظام کا دائرہ کار فاٹا تک وسیع ہوگیااور آرٹیکل 246کے تحت دیا گیا سپیشل سٹیٹس بھی ختم ہوگیا اگرچہ 5سال کے لیے ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے تاہم یہ ناکافی ہے اور اس کی وجہ سے اور اب اس آئینی ترمیم کے تحت اقتصادی رابطہ کونسل نے جن سفارشات کی منظوری دی ہے انہیں ایف بی آر سے ایس آر او کے ذریعے لاگو کروایا جائے گا جس سے فاٹا کے عوام اور تاجر برادری میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر کو اس ضمن میں ایس آر او جاری کرنے سے روکا جائے اور ای سی سی کی سفارشات پر نظرثانی کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں جاری اصلاحاتی عمل اور آئینی ترامیم کا مقصد فاٹا کو ترقی کے مرکزی دھارے میں لانا تھا نہ کہ ایسے اقدامات کہ جن سے عوام میں بے چینی زور پکڑجائے ۔ انہوں نے کہا کہ ای سی سی کی سفارشات ترمیم کی اصل رو کے خلاف ہیں اور اس سے بڑے پیمانے پر مسائل پیدا ہوں گے۔

چیئرمین سینیٹ نے وفدکو ان کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ان کے جائز مطالبات اور تحفظات کے حل کے لیے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے اور اس مسئلے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس جلد طلب کیا جائے گا تاکہ تمام سٹیک ہولڈر زکیساتھ مشاورت کے ذریعے ایسی سفارشات مرتب کی جائیں جن سے فاٹا اور پاٹا میں لاگو ہونے والے ٹیکسوں کے لیے ایک مناسب لائحہ عمل اور نظام وضع کیا جاسکے ۔ اس ملاقات میں سینیٹرز فدا محمد خان، میاں عتیق شیخ ، مرزا محمد آفریدی اور سابق ایم این اے شاہ جی گل آفریدی بھی موجود تھے ۔ چیئرمین سینٹ نے وفد کو جائز مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی بھی یقین دہانی کرائی۔