اے ٹی ایم مشینوں کی تعداد5 سال میں بھی بینک برانچوں کے برابرنہ ہوسکی

اسٹیٹ بینک نے سال 2013 ء میں بینکوں کی ہر شاخ میں کم از کم ایک اے ٹی ایم نصب کرنے کو لازمی قرار دیا تھا

بدھ جون 17:39

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) پاکستان میں اے ٹی ایمز کی تعداد بینک شاخوں کے برابر نہیں ہوسکی، پاکستانی بینکنگ انڈسٹری 5 سال کی مہلت کے باوجود عالمی سطح پر رائج ایک برانچ کیلیے ایک اے ٹی ایم کا پست ترین معیار بھی حاصل نہ کرسکی، پاکستان میں الیکٹرونک ادائیگیوں کی سہولت تیزی سے فروغ پارہی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ جنوری تا مارچ 2018سہ ماہی رپورٹ کے مطابق پاکستان ریئل ٹائم انٹربینک سیٹلمنٹ مکینزم (پرزم)کے براہ راست رکن اداروں اور بینکوں کی تعداد 43تک پہنچ گئی ہے جن میں کمرشل بینک، مائیکروفنانس بینک، ترقیاتی مالیاتی ادارے اور سینٹرل ڈپازٹری کمپنی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس سہ ماہی میں ملک میں45 بینکوں کی شاخوں کی تعداد 14ہزار 850 تک پہنچ گئی جن میں سے 117 اوورسیز برانچیں شامل ہیں،23 برانچوں کے علاوہ دیگر تمام برانچیں صارفین کو آن لائن بینکاری خدمات فراہم کررہی ہیں، اے ٹی ایمز کی تعداد 13ہزار 835 جبکہ پوائنٹ آف سیلز مشینوں کی تعداد 53ہزار 509تک پہنچ گئی، پاکستان میں اے ٹی ایم برانچز کی تعداد میں اضافے کے باوجود یہ سطح انٹرنیشنل معیار سے کم ہے۔

(جاری ہے)

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سال 2013 میں بینکوں کی ہر شاخ میں کم از کم ایک اے ٹی ایم نصب کرنے کو لازمی قرار دیا تھا تاہم 5 سال گزرنے کے باوجود کمرشل بینک یہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ادھر کمرشل بینکوں کی جانب سے بینک شاخوں کی تعداد کے برابر اے ٹی ایمز نصب نہ کیے جانے کے سبب مرکزی بینک نے ملک میں وائٹ لیبل اے ٹی ایمز نصب کرنے کی اجازت دیتے ہوئے قواعدوضوابط متعارف کرادیے ہیں۔

وائٹ لیبل اے ٹی ایم نان بینکنگ ادارے نصب کرسکیں گے، اس اقدام سے صارفین کو رقوم کے حصول میں آسانی ہوگی۔ اسٹیٹ بینک نے پیمنٹ سسٹمز اینڈ الیکٹرونک فنڈ ٹرانسفر ایکٹ 2007 کے تحت وائٹ لیبل اے ٹی ایم آپریٹرز کو اے ٹی ایم نصب کرنے کی اجازت دی ہے، یہ اے ٹی ایم ڈبل نیٹ ورک سوئچز سے منسلک ہوں گے، مشینوں پریوروپے، ماسٹر کارڈ اور ویزا کارڈز وصول کرنے کی سہولت بھی لازم قرار دی گئی ہے، وائٹ لیبل اے ٹی ایمز نصب کرنے والے آپریٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ اے ٹیم ایمز پر جدید اسکمنگ ڈیوائسز نصب کی جائیں تاکہ اے ٹی ایم صارفین کو ممکنہ فراڈ اور دھوکہ دہی سے بچایا جاسکے۔

متعلقہ عنوان :