رحمان ملک کی دوہری شہریت کیس میں فوجداری مقدمہ سے بریت کا معاملہ،عدالت نے الیکشن کمیشن سے 22 جون تک جواب طلب کرلیا

بدھ جون 18:01

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) سندھ ہائیکورٹ میں سابق وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک کی دوہری شہریت کیس میں فوجداری مقدمہ سے بریت کا معاملہ،،عدالت نے الیکشن کمیشن سے 22 جون تک جواب طلب کرلیا ہے ۔

(جاری ہے)

بدھ کو سندھ ہائی کورٹ میں سماعت کے موقع پر رحمان ملک کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے دوہری شہریت کے تمام ملزمان کے خلاف فوجداری کارروائی ختم کرنے کا حکم دیا ئے،،سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں الیکشن کمیشن کی اپیل مسترد کی جائے ، عدالت نے الیکشن کمیشن سے 22جون تک جواب طلب کرلیا،،الیکشن کمیشن نے ہائیکورٹ میں اپیل کی تھی کہ 2008کے انتخابات میں رحمان ملک کی اپنی دوہری چھپانے پر سپریم کورٹ نے کارروائی کا حکم دیا،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے 2014میں یکطرفہ فیصلہ سنا کر رحمان ملک کو بری کردیا،ماتحت عدالت میں کارروائی کے دوران پیپلز پارٹی کی جانب سے پراسیکیوٹر مقرر کیا،کیس کے پراسیکیوٹر نے جان بوجھ کر کیس کے میرٹ پر بات نہیں کی اور نو آبجیکشن دے دیا،،رحمان ملک دہری شہریت رکھنے کا خود اعتراف بھی کرچکے تھے،سیشن عدالت کا رحمان ملک کو دہری شہریت میں بری قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے،رحمان کو ملک کو انتخابات کے لیے نا اہل قرار دیے کر وصول شدہ مراعات واپس کرنے کا حکم دیا جائے۔