احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر)محمد صفدر کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت (کل)تک ملتوی کردی

بدھ جون 18:15

احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ،ان کی صاحبزادی مریم نواز اور سابق ممبر قومی اسمبلی کیپٹن (ر)محمد صفدر کے خلاف دائر نیب ریفرنس کی سماعت (کل)جمعرات تک ملتوی کردی ہے ۔ بدھ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کی۔ تو اس موقع پر سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے جبکہ مریم نواز اور کیپٹن (ر)محمد صفدر کی جانب سے حاضری سے استثنٰی کی درخواست دائر کی گئی۔

کیپٹن (ر)محمد صفدر کے وکیل ظافر خان نے عدالت کو بتایا کہ کیپٹن (ر) محمد صفدر انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی فارم حاصل کرنے کے سلسلہ میں مانسہرہ میں موجود ہیں لہٰذا حاضری سے استثنیٰ دیا جائے جس پر عدالت نے استثنیٰ کی درخواست کی منظور کر لی ۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے مسلسل دوسرے روز ایون فیلڈ ریفرنس میں حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ محمد نواز شریف،، مریم نواز،، حسن نوازاور حسین نواز ذرائع آمدن ثابت نہیں کرسکے جبکہ مریم نواز نے اصل حقائق چھپائے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کا خاندان ذرائع آمدن ثابت نہیں کرسکا، محمد نواز شریف گلف اسٹیل ملز کے مالک ہیں جبکہ قطری خط بھی غلط ثابت ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے بطور گواہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کئے جبکہ ملزمان نے تفتیشی ایجنسی کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں حسین نواز کا بیان پڑھ کر سنایا اور کہا کہ حسین نواز 1992 میں لندن پڑھائی کے لیے گئے اور انہوں نے خود کہا کہ وہ ایک سال ہاسٹل میں رہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ 1993 میں لندن فلیٹس میں منتقل ہوئے اور پھر یہیں مقیم رہے جبکہ مریم نواز اس پراپرٹی کی بینیفشل آنر ہیں۔ سردار مظفر عباسی نے کہا کہ حسین نواز لندن فلیٹس کے گراؤنڈ رینٹ اور یوٹیلیٹی بلز بھی ادا کرتے تھے جبکہ انہوں نے کہا کہ اس نے 1994 میں لندن فلیٹ میں رہنا شروع کیا۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ نواز شریف جانتے ہیں کہ حسین نواز 90 کی دہائی کے آغاز سے لندن فلیٹس میں رہ رہے ہیں۔

نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل کا مزید کہنا تھا کہ گلف اسٹیل ملز کے اصل مالک محمد نواز شریف تھے جبکہ قطری شہزادے کا خط بھی غلط ثابت ہوگیا۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ بار ثبوت ملزمان پر ہے اور وہ بے گناہی ثابت کرنے میں ناکام رہے۔۔عدالت نے مذید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی ہے ۔