وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کی زیر صدارت عبوری وفاقی کابینہ کا اجلاس،

6 فیصد کی شرح نمو پر اظہار اطمینان سیکرٹری داخلہ کی ملک میں داخلی سلامتی ،امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے اٹھائے گئے قانونی و انتظامی پالیسی اقدامات بارے کابینہ کو بریفنگ وزیراعظم کی خزانہ ڈویژن کو آئندہ منتخب حکومت کیلئے فوری اقدامات ،طویل المعیاد ڈھانچہ جاتی اصلاحاتی پیکیج پر مشتمل بلوپرنٹ پر مبنی حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت

بدھ جون 18:48

وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کی زیر صدارت عبوری وفاقی کابینہ کا اجلاس،
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) نگران وفاقی کابینہ نے 6 فیصد کی شرح نمو پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے ادائیگیوں میں توازن، مالی و قرضوں کی پائیداریت اور سرکاری اداروں کے بہتر انتظام و انصرام کیلئے عبوری کابینہ کے مینڈیٹ کے تحت فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔بدھ کو عبوری وفاقی کابینہ کا اجلاس نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کی زیر صدارت وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا ۔

وفاقی کابینہ کو سیکرٹری داخلہ نے وزارت داخلہ اور اس سے منسلک محکموں کی کارکردگی بارے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے ملک میں داخلی سلامتی اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لئے اٹھائے گئے قانونی اور انتظامی پالیسی اقدامات کے بارے میں کابینہ کو آگاہ کیا۔ سیکرٹری داخلہ نے وفاقی کابینہ کو آزادانہ، منصفانہ ، غیر جانبدارانہ اور پر امن انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کے ضمن میں وزارت داخلہ کے اقدامات کے بارے میں بھی بتایا۔

(جاری ہے)

وزیر خزانہ و اقتصادی امور ڈاکٹر شمشاد اختر نے ملکی معیشت اور مختلف اقتصادی اشاریوں کے بارے میں جائزہ پیش کیا۔ وفاقی کابینہ نے 6 فیصد کی شرح نمو پر اطمینان کا اظہار کیا اور ادائیگیوں میں توازن مالی اور قرضوں کی پائیداریت اور سرکاری اداروں کے بہتر انتظام و انصرام کیلئے نگران کابینہ کے مینڈیٹ کے تحت فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے خزانہ ڈویژن کو آئندہ منتخب حکومت کیلئے فوری اقدامات اور اس کیساتھ طویل المعیاد ڈھانچہ جاتی اصلاحاتی پیکیج پر مشتمل بلوپرنٹ پر مبنی حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت بھی کی۔