خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کا علی الصبح پشاور کے ٹان ون میں چھاپہ ،نجی مذبح خانہ سیل کردیا گیا

بدھ جون 19:22

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے علی الصبح پشاور کے ٹان ون میں واقع نجی مذبح خانے پر چھاپہ مارا جس کے دوران مختلف انکشافات ہونے کے بعد مذبح خانے کو سیل کردیا گیا۔ترجمان کے پی فوڈ اتھارٹی عطااللہ خان کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسدعلی، سائرہ نثار، انیلہ محبوب اور محمد عباس کی نگرانی میں کے پی فوڈ اتھارٹی کے ایکسپرٹ ٹیم نے مذبح خانے کا دورہ کیا تو ڈیوٹی پر مامور عملے کے طوطے اڑ گئے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ کسی مستند ڈاکٹر کا ذبح خانے میں وجود ہی نہیں تھا جس کے نتیجے میں بیمار، لاغر، نوزائیدہ اور حاملہ جانوروں کی سلاٹرنگ معمول بن چکا تھا۔ کے پی فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے ویڈیو ثبوت اکھٹے کرتے ہوئے تمام جانوروں کی ویڈیو بنائی اور میڈیا کیساتھ شیئر کی۔

(جاری ہے)

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ منڈی سے لاغر اور بیمار جانوروں کو سیدھا مذبح خانے لایا جاتا ہے جہاں بغیر طبی چھان بین کے جانور کو ذبح کرکے مارکیٹ میں سپلائی کیا جاتاہے،اس کے علاوہ حاملہ جانوروں کی زبیحہ کا بھی انکشاف ہوا جس کے ساتھ پیٹ سے نکالے جانے والے بچھڑوں کی ذبیحہ کو بھی نوٹس کیا گیا جس پر فوڈ اتھارٹی افسران نے مذبح خانے کے عملے کی سرزنش کی۔

عملے نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ مذبح خانے میں ہونے والے ذبیحوں میں اسلامی طریقہ کار کو بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا۔ ترجمان کے مطابق کے پی فوڈ اتھارٹی نے پہلے سے ہی بیماراور کم عمر جانوروں کی ذبیحہ پر پابندی عائدکردی ہے تاہم لاغر، حاملہ اور اپاہج جانوروں کا ذبیحہ تو کسی صورت قبول نہیں۔ متعلقہ مذبح خانے کو تالے لگائے گئے ہیں جبکہ متعلقہ افراد کیخلاف تادیبی کاروائی شروع کردی گئی ہے۔