بلوچستان کے محکمہ صحت کے حالت زار کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن

بدھ جون 19:39

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) ینگ ڈاکٹر زایسوسی ایشن کے صوبائی بیان میںسپریم کورٹ ، نیب اور دیگر اداروں سے اپیل کر تے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے محکمہ صحت کے حالت زار کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے اور بلوچستان کے عوام صحت کے بنیادی سہولیات سے محروم ہے اگر حالت کا جائزہ نہیں لیا گیا تو ہم سخت اقدام اٹھانے پر مجبور ہونگے جس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ صحت پر عائد ہو گی بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں صحت کا شعبہ دن بدن تباہی کی طرف جا رہا ہے جبکہ کوئی پو چھنے والا نہیں ہے بلوچستان کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں نہ ادویات ہے اور نہ دیگر بنیادی ضروریات اور تمام تر ادویات باہر سے لئے جا تے ہیں جس سے غریب مریضوں کو کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ہسپتالوں میں اب تک ایم آر آئی ، انڈو سکپی مشین اور دیگر سہولیات مشین نہیں ہے سول ہسپتال کا کھیت لیپ کئی عرصے سے خراب پڑا ہے اس کے علاوہ بلوچستان کے محکمہ حالت زار یہی ہے کہ زچکی کے دوران اموات میں بلوچستان دنیا میں پانچواں نمبر اور پھر نوازئندہ بچوں کی اموت میں بلوچستان کا شمار دنیا میں پہلے نمبر پر ہے اس کے ساتھ ساتھ ٹی بی جیسے مہلک مرض کا بلوچستان میں تیزی کیساتھ پھیل رہا ہے محکمہ کی اس حالت زارپر اعلیٰ حکام نے چھپ کا روزہ رکھ کر تماشی بنے ہوئے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے محکمہ صحت کے حالت زار کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے اور بلوچستان کے عوام صحت کے بنیادی سہولیات سے محروم ہے اگر حالت کا جائزہ نہیں لیا گیا تو ہم سخت اقدام اٹھانے پر مجبور ہونگے جس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ صحت پر عائد ہو گی