پاکستان کو سندھ طاس معاہدے پر جارحانہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی، چیئرمین واپڈا

انڈس واٹر کمیشن کمزور ادارہ ہے اس کو مضبوط کیا جائے حکومت سندھ طاس معاہدے کو خارجہ پالیسی کا حصہ بنائے سیاست جماعتیں اتفاق رائے پیدا کریں تو کالا باغ ڈیم بن سکتا ہے، سینٹ قائمہ کمیٹی آبی وسائل میں بریفنگ

بدھ جون 20:01

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنر ل (ر) مزمل حسین نے کہا ہے پاکستان کو سندھ طاس معاہدے پر جارحانہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی ، انڈس واٹر کمیشن کمزور ادارہ ہے اس کو مضبوط کیا جائے حکومت سندھ طاس معاہدے کو خارجہ پالیسی کا حصہ بنائے سیاست جماعتیں اتفاق رائے پیدا کریں تو کالا باغ ڈیم بن سکتا ہے ۔سینیٹرشیم آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے سینیٹ کی قا ئمہ کمیٹی آبی وسائل کے اجلاس میں چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل قریشی کا پانی کی دستیابی اور ذخائر کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی ۔

چیئرمین واپڈا کا کہنا تھاکہ ملک میں پانی چوری سب سے بڑا معاملہ ہے اگر پانی چوری کو رووکنے کا واحدحل پانی کی قیمت کا تعین ہے ماضی میں گیس کی قیمت کا تعین نہ کرنے کے باعث ذخائر کم ہوئے اور اب قطر سے ایل این جی درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔

(جاری ہے)

چیئرمین واپڈا نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تیس دن کی ہے جبکہ بھارت ایک سو ستر دن تک پانی ذخیرہ کرسکتا ہے۔

ملک میں شوگر ملیں اور ٹیوب ویلز کے باعث زیر زمین پانی کم ہور ہا ہے دیامر بھاشا ڈیم پر گیارہ ارب ڈالر کی لاگت آئے گی اس منصوبے کیلئے واپڈا اسی ارب روپے ادا کرچکا ہے ڈیم بنتے ہوئے دس سال لگیں گے ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کو پانی کی قلت کا سامنا ہے اگر سیاسی جماعتیں اتقاق رائے پیدا کریں تو کالا باغ ڈیم بن سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ نیلم جہلم منصوبہ اور گولن گول منصوبہ مکمل کیا جا چکا ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو سندھ طاس معاہدے پر جارحانہ پالیسی اپنانا ہوگی انڈس واٹر کمیشن کمزور ترین ادارہ ہے اس مضبوط کرنے کی ضرورت ہے سندھ طاس معاہدے کو خارجہ پالیسی کا حصہ بنایا جائے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ارسا کاکہنا تھاکہ بلوچستان کو اس کے حصے کا پانی راستے سے چوری کر لیا جاتا ہے جبکہ ارسا کی جانب سے صوبے کو پورا پانی جاری کیا جا تا ہے راستے میں چوری روکنے کیلئے اقداما ت اٹھائے جائیں۔