لاہور ہائیکورٹ ، رمضان المبارک میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری

بدھ جون 20:18

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے رمضان المبارک میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں اور درخواست پر جواب مانگا ہے ۔ جس میں رمضان المبارک میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق حکومت نے 5سالوں میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن یہ اعلان محض کھلا دعوی ہی ثابت ہوا ہے۔

درخواست گزار نے نشاندہی کی حکومت نے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے بجائے الٹا رمضان المبارک میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ شروع کر دی ہے۔درخواست گزار وکیل نے بتایا کہ بے معمول کے علاوہ اب غیر اعلانیہ اور بے وقت لوڈشیڈنگ سے لوگوں کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے روزہ داروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

(جاری ہے)

درخواست گزار وکیل نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہیے تھے تاکہ رمضان المبارک میں بجلی کی معمول کی لوڈ شیڈنگ میں کمی ہوتی لیکن غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے سحر اور افطار کے وقت زورے داروں کو دشواری ہو رہی ہے۔

درخواست گزار وکیل نے استدعا کی کہ حکومت کو پابند کیا جائے کہ رمضان المبارک کے دوران بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کو ختم کیا جائے اور اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ میں کمی لائی جائے۔ درخواست پر آئندہ سماعت 12 جون کو ہوگی۔