یوم شہادت حضرت علیؑ،ایم اے جناح روڈ پر نماز ظہرین ادا کی گئی

فلسطین اور شام ، عراق ، کشمیر، بحرین اوریمن میں جاری مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا

بدھ جون 20:32

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) یوم شہادت حضرت علی علیہ السلام کے موقع پر دوران مرکزی جلوس آئی ایس او کے زیر اہتمام ایم اے جناح روڈ پر نماز کا اہتمام کیا گیا جس کی امامت حجت السلام وا لمسلمین علامہ شاہد رضا کاشفی نے کی۔بعد نماز ظہرین ایک احتجاجی مظاہرہ فلسطین اوردنیا بھر بالخصوص شام ، عراق ، کشمیر، بحرین اوریمن میں جاری مظالم کے خلاف کیا گیا۔

اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابن ملجم کے پیرو کار آج بھی مسجد میں نمازیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں،گزشتہ دنوں افغانستان میں ہونے والے بم دھماکے اس بات کی واضح دلیل ہے جبکہ مسلم دنیا میں آپس میں باہمی اتحاد و اتفاق نہ ہونے کے سبب دشمن کا آسان نشانہ بنی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حضرت علی(ع) یتیموں کے باپ ہیں اور رات کی تاریکی میں ان کیلئے کھانا لے کر جاتے تھے یہ عمل معاشرے کے حکمرانوں کیلئے ایک بہت بڑا درس ہے۔

(جاری ہے)

خاص طور پر دنیا بھر کے مسلمان حکمرانوں کے لیے کہ جب فلسطین میں ماہ ِمبارک رمضان میں غاضب اسرائیلی فوجی مظلوم فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔آج سلام دشمن قوتیں امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک اسلام اور مسلمانوں کو کسی نہ کسی بہانے سے نقصان پہنچا کی آڑ میں لگی ر ہتی ہیں، اپنے ناپاک مقاصد کے حصول کے لئے انہوں نے پہلے القاعدہ ، طالبان اور پھر داعش کو تخلیق کیاتاکہ معصوم اور نہتے مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھا جاسکے۔

اپنے خطاب میں مقررین اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر غیر قانونی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے جو خاموشی اختیا ر کیئے ہوئے ہیں مطالبہ کیا کہ فی الفور ان حملوں کو بند کروایا جائے۔اس موقع پر آئی ایس او پاکستان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی 23رمضان المبارک جمعتہ الوداع یوم القدس کے طور پر منایا جائے گااور اس سلسلے میں مرکزی القدس ریلی نمائش تا تبت سینٹر نکالی جائے گی جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء،مختلف مذاہب اور دیگر طلبا تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر بھی خطاب کریں گے۔

آخر میں شرکائے جلوس نے امریکہ و اسرائیل کے جھنڈے نذر آتش کرتے ہوئے امریکہ اسرائیل مردہ باد کے شعار بھی بلند کیے۔