پلاسٹک کا بڑھتا ہو ا استعمال اور ماحول کیلئے سنگین خطرہ ہے،مقررین

حکومت پلاسٹک مصنوعات کو مرحلہ دار ختم کرنے اور ماحول دوست پلاسٹک کو فروغ دینے کیلئے موثر منصوبہ بندی کرے ،عالمی یوم ماحول کے موقع پر خطاب

بدھ جون 20:32

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) پلاسٹک کا بڑھتا ہو ا استعمال اور ماحول کیلئے سنگین خطرہ بن گیا ہے اور اب کچرے میں 65فیصد پلاسٹک موجود ہوتا ہے ۔حکومت پلاسٹک مصنوعات کو مرحلہ دار ختم کرنے اور ماحول دوست پلاسٹک کو فروغ دینے کیلئے موثر منصوبہ بندی کرے کیونکہ اس کے استعمال سے ماحولیات خصوصاً سمندری حیات کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار مقررین نے انسانی زندگی پر پلاسٹک آلودگی کے اثرات کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے کیا۔ اس سیمینار کا انعقاد نیشنل فورم فار انوئرنمنٹ اینڈ ہیلتھ نے اقوامی متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام، بحریہ فائونڈیشن اور سندھ انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے تعاون سے عالمی یوم ماحول کے موقع پر کیا تھا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پلاسٹک سے آلودگی پھیلانے والوں کے سخت قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ اس کے ذریعے بڑھنے والی تباہی کو کم کیا جا سکے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر کموڈور سید ظفر قبال ڈائریکٹر ایل این جی پروجیکٹ بحریہ فائونڈیشن ، صدر نیشنل فورم محمد نعیم قریشی، سیپا کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر وقار حسین، ای ایم سی پاکستان کے ثاقب اعجاز حسین، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشنیا لوجی کی ڈاکٹر نزہت خان، سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے بریگیڈیئر طارق لاکھیر، سینئر انوائرنمنٹل صحافی عافیہ سلام اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں کموڈور ظفر اقبال نے کہا کہ یہ ایک المیہ ہے کہ ملک کے سمندروں کو کچرا ٹھکانے لگانے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کرچی میں 13سے 14نکاسی کی لائنوں کے ذریعے فضلہ سمندر میں پھینکا جا رہا ہے جس سے آبی حیات سنگین خاتمے میں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ تیسری دنیا کے ممالک بھی اس طرح سے سمندر کو آلودہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

ظفر اقبال نے کہا کہ جب انہوں نے 1970ء میں جب پاکستان نیوی میں ملازمت اختیار کی تب کیماڑی پورٹ پر سمندر صاف و شفاف ہوا کرتا تھا مگر اب اس کی حالت ابتر ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بحریہ فائونڈیشن ڈبلیو ڈبلیو ایف اور نیشنل فورم کے ساتھ مل کر سمندر کو مزید آلودہ ہونے سے بچانے کیلئے آگاہی مہم کا آغاز کرنے جا رہا ہے ۔ اس موقع پر ثاقب اعجاز نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہر میں 65فیصد پلاسٹک آلودگی انڈسٹریز اور میونسپل کارپوریشن کی وجہ سے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق تقریباً 13ملین ٹن پلاسٹک ہر سال پاکستان میں سمندر برد کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ملک میں ڈسپوزیبل مصنوعات کو بائیو ڈیگریڈ ایبل پلاسٹک سے بنایا جانا چاہئے تاکہ آلودگی کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اس موقع پر ڈاکٹر نزہت نے اپنے خطاب میں کہا کہ سمندر کے نزدیک آبادی کو سمندری آلودگی کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں پلاسٹک سے پیدا ہونے والے نقصانات سے آگاہی دیتے ہوئے اس کے استعمال سے روکنا ہوگا انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کو پلاسٹک کے فضلہ کو جمع کرنے اور پھر اسے ری سائیکل کرنے کے بارے میں بھی بتانا چاہئے اس سے انہیں روزگار بھی میسر آسکے گا۔

بریگیڈیئر لاکھیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ تھر میں کوئلے کے پروجیکٹ کو ماحولیاتی قوانین کے مطابق مکمل کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں ایک ملین پودے بھی لگائے جارہے ہیں۔ عافیہ سلام نے کہا کہ شہری علاقوں میں پلاسٹک کے فضلے کو جلایا بھی جا رہا ہے جو کہ صحت اور ماحولیات کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک فضلے کو ری سائیکل کیا جانا چاہئے اور شہریوں کو بھی چاہئے کہ وہ پلاسٹک مصنوعات کے استعمال کو ترک کردیں۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں محمد نعیم قریشی نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں پلاسٹک کے فضلے کو ری سائیکل کرنے والے ممالک دوسرے نمبر پر شامل ہے مگر یہاں اس کے معیار کی جانچ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ پلاسٹک کے استعمال پر پابندی عائد کرے۔ ڈائریکٹر ٹیکنیکل وقار حسین نے کہا کہ اتنے بڑے شہر میں سیپا کے پاس16انسپکٹر موجود ہیں جو کہ اس شہر کے حساب سے بہت کم ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس کے باوجود سیپا ماحول کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کر رہا ہے کہیں ماحول کو نقصان پہنچانے کے کام ہوتے ہیں وہاں کاروائی کی جاتی ہے۔ اس موقع پر افسریاب طارق اور ڈاکٹر معین الدین بھی اظہار خیال کیا۔ #